عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//دریائے جہلم میں چھلانگ لگانے والے اتر پردیش کے ایک نوجوان کی لاش پانچ روزہ طویل تلاش کے بعد پیر کے روز سرینگر کے علاقے زینہ کدل سے برآمد کر لی گئی۔ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے پیر کی صبح ایک منظم آپریشن کے دوران لاش کو دریا سے نکالا۔ ٹیمیں گزشتہ کئی دنوں سے مسلسل تلاش میں مصروف تھیں اور بالآخر آج کامیابی حاصل ہوئی۔ مہلوک کی شناخت محمد قریش صدیقی (18) ولد محمد نواب صدیقی، ساکن اتر پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔نوجوان نے 22 اپریل کو دریائے جہلم میں چھلانگ لگا دی تھی، جس کے بعد فوری طور پر تلاش مہم شروع کی گئی تھی۔حکام نے بتایا کہ لاش کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ادھر ضلع شوپیاں میں ایک دل دہلا دینے والا منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب پانچ سالہ معصوم نگار احمد کی تلاش دوسرے دن بھی جاری رہی۔ ننھا بچہ اتوار کے روز ڈبجن کے قریب تیز بہاؤ والے نالہ رنبی آرہ میں بہہ گیا تھا، جس کے بعد سے پورا علاقہ غم میں ڈوبا ہوا ہے۔(ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں مسلسل دوسرے دن بھی دریا کے سرد اور بے رحم پانیوں میں بچے کی تلاش میں مصروف رہے، مگر تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔دریا کے کناروں پر ایک دردناک منظر دیکھنے کو ملا جہاں بچے کے اہلِ خانہ اور رشتہ دار زار و قطار رو رہے تھے۔