یو این آئی
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز یو اے پی اے کے تحت دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو “غیر قانونی ادارہ” قرار دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پسماندہ طبقات کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیا ہے۔محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خطے کی شناخت اور وقار پر ہونے والے حملوں کے سامنے خاموش تماشائی اور بزدل کا کردار ادا کر رہی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ادارے کو غیر قانونی قرار دینا معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مدرسہ طویل عرصے سے ان طلبہ کے لیے معیاری تعلیم کا مرکز رہا ہے جو مہنگے اسکولوں کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور اس ادارے نے نامور ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک دشمن سرگرمی کے کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ان فلاحی اداروں پر پابندی لگانا تعصب اور بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں جبر اور عوام کو بے اختیار کرنے کی پالیسی کا الزام لگایا۔ایکس پر اپنی پوسٹ میں میرواعظ نے کہا کہ ایک موجودہ رکنِ پارلیمنٹ کو اپنے شدید بیمار والد سے ملنے کے لیے ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا اور اب محروم طبقے کی خدمت کرنے اور اسکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز اور پیشہ ور افراد پیدا کرنے کی شاندار وراثت رکھنے والے ایک ممتاز تعلیمی ادارے کو یو اے پی اے کے تحت غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔میرواعظ نے سوال کیا کہ ایسی پالیسیاں کب تک جاری رہیں گی؟ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ اور منتخب حکومت دونوں سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے جامعہ سراج العلوم کو UAPA کے تحت “غیر قانونی” قرار دینے کے اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اعلامیہ نے وادی میں تعلیمی اور شہری مقامات پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ادھرپیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون اقدام کو “گہری تشویش” قرار دیا ہے۔ X پر ایک پوسٹ میں، لون نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات “ایک رجحان بن چکے ہیں” اور “خطرناک” ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ “منتخب ٹارگٹنگ ماضی میں کام نہیں کرتی تھی اور اب کام نہیں کرے گی۔