محمد ایوب گنائی
شہر کا شور ایک ایسی لوری بن چکا تھا جو ضمیروں کو جگانے کے بجائے سلا دیتی تھی۔ آسمان پر نارنجی اور سرمئی بادلوں کی چادر تنی تھی، جیسے قدرت نے شہر کی سنگدلی پر اپنا آنچل ڈال دیا ہو۔ یہ وہ پہر تھا جب دن کی مشقت دم توڑ رہی ہوتی ہے اور رات کی تھکن اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتی ہے۔ بلند و بالا عمارتوں کے شیشوں میں ڈوبتے سورج کا عکس ایسا لگتا تھا جیسے کوئی زخمی آنکھ شہر کا تماشہ دیکھ رہی ہو۔ سڑکوں پر دھویں اور گرد کا راج تھا اور ہر چہرہ ایک ایسی عجلت میں تھا جیسے اسے وقت کے کسی بڑے قرض کی ادائیگی کرنی ہو۔
فرحان فٹ پاتھ کے ایک کونے پر کھڑا اس انسانی سمندر کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں ایئر فون تھے، مگر موسیقی کے بجائے اسے صرف لوگوں کے قدموں کی چاپ اور انجنوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس ہجوم میں ہر شخص ایک چلتی پھرتی لائبریری ہے، جس کے اندر ہزاروں کہانیاں دفن ہیں، مگر کسی کے پاس کسی دوسرے کا سرورق پڑھنے کی مہلت نہیں۔
پھر اچانک، وہ منحوس آواز گونجی جس نے فضا کے سکون کو ریزہ ریزہ کر دیا۔
ٹائروں کے رگڑنے کی وہ تیز آواز کسی تیز دھار آلے کی طرح کانوں کے پردوں سے ٹکرائی۔ ایک موٹر سائیکل سوار، جو شاید اپنے بچوں کے لیے رزق کی آخری امید لیے گھر جا رہا تھا، ایک بے لگام گاڑی کی زد میں آگیا۔ ٹکراؤ اتنا شدید تھا کہ موٹر سائیکل کے پرزے کسی کھلونے کی طرح بکھر گئے اور وہ شخص سڑک کے بیچوں بیچ ایک بے جان ڈھیر کی طرح جا گرا۔
پہلے چند سیکنڈ ایک مہیب سکوت طاری رہا، پھر وہی ہوا جو اس “ڈیجیٹل دور” کا المیہ ہے۔ سڑک کے دونوں طرف ٹریفک تھم گئی، مگر لوگ مدد کے لئے نہیں، بلکہ بہترین “اینگل” تلاش کرنے کے لیے رکے تھے۔ درجنوں اسمارٹ فونز کی اسکرینیں بیک وقت روشن ہوئیں۔ کوئی لائیو اسٹریمنگ کر رہا تھا تو کوئی زوم ان کر کے خون کے دھبوں کی تصویر کشی میں مصروف تھا۔
“دیکھو، کتنا خون نکل رہا ہے!” ایک نوجوان نے جوش سے کہا۔
“یار، یہ ویڈیو تو ٹرینڈ کرے گی،” دوسرے نے جواب دیا، جیسے سامنے پڑا انسان گوشت پوست کا وجود نہیں بلکہ صرف ایک ’مواد‘ (Content) ہو۔
فرحان کا ہاتھ بے اختیار اپنی جیب میں گیا اور اس نے اپنا موبائل نکال لیا۔ کیمرہ آن ہوا، مگر جیسے ہی اس نے اسکرین پر اس تڑپتے ہوئے وجود کو دیکھا، اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑا وہ فون ایک وزنی پتھر محسوس ہونے لگا۔ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے سڑک کا وہ منظر دھندلاتا ہوا محسوس ہوا اور ماضی کا ایک دریچہ کھل گیا۔
دس سال پہلے کا وہ منظر… جب اس کے والد ایک ایسے ہی چوراہے پر گرے تھے۔ ان کا ہاتھ فضا میں کسی مسیحا کو پکار رہا تھا، مگر ہر طرف صرف خاموش تماشائیوں کا حصار تھا۔ اس دن بھی لوگوں نے ویڈیوز بنائی تھیں، اس دن بھی ہجوم تھا، مگر اس ہجوم میں ’انسان‘ کوئی نہ تھا۔ اسپتال پہنچنے میں ہونے والی دس منٹ کی تاخیر نے فرحان سے اس کی کائینات چھین لی تھی۔
اچانک فرحان کی نظر سڑک پر بکھرے ہوئے اس چھوٹے سے تھیلے پر پڑی۔ اس میں سے ایک پلاسٹک کی گڑیا نکلی تھی جس کا ایک بازو ٹوٹ چکا تھا اور چند غبارے جو ہوا بھرے جانے سے پہلے ہی سڑک کی گرد میں اٹ گئے تھے۔ یہ غبارے کسی کی سالگرہ کی خوشی ہو سکتے تھے، یا کسی بچی کی ضد کا انعام۔ وہ گڑیا جو اب خون میں نہا چکی تھی، کسی معصوم کے انتظار کی علامت تھی۔
اس منظر نے فرحان کے اندر چھپے خوف کو غصے میں بدل دیا۔ اس کا ضمیر اسے پکار رہا تھا: ’’اگر آج تم بھی خاموش رہے، تو تم اپنے باپ کے قاتلوں میں شامل ہو جاؤ گے!‘‘
“ہٹ جائیں یہاں سے!” فرحان کی آواز میں ایک ایسی گونج تھی جس نے موبائل فون پکڑے ہاتھوں کو لرزا دیا۔ “کیا یہ تمہارا تماشہ ہے؟ کیا اس کی زندگی تمہارے ویوز سے سستی ہے؟”
اس نے اپنا قیمتی موبائل فون ایک طرف پھینکا۔ وہ اسکرین جو تھوڑی دیر پہلے ایک تماشائی کی آنکھ بنی ہوئی تھی، اب فٹ پاتھ پر اوندھی پڑی تھی۔ فرحان بھاگتا ہوا زخمی کے پاس پہنچا۔ اس نے اپنا بیگ اسکے سرہانے رکھا اور اپنی قمیض کا ایک حصہ پھاڑ کر اس کے بہتے ہوئے زخم پر باندھا۔
“بھائی، مجھے دیکھیں! ہمت نہیں ہارنی، آپ کے بچے آپ کا انتظار کر رہے ہیں،” فرحان اس کا ہاتھ تھام کر مسلسل اسے زندگی کی طرف بلا رہا تھا۔
اس کی پکار نے جیسے ہجوم پر جادو کر دیا۔ ایک بوڑھے آدمی نے قریب آ کر اپنی پانی کی بوتل سے اس کے چہرے پر چھینٹے مارے، ایک ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی قریب لگائی اور کہا، “بیٹا، اسے میری گاڑی میں ڈالو، ایمبولینس کا انتظار کیا تو دیر ہو جائے گی۔” وہ ہجوم جو تھوڑی دیر پہلے ایک بے حس دیوار تھا، اب ایک زنجیر بن چکا تھا۔
اسپتال کے کوریڈور میں بیٹھے ہوئے فرحان کے ذہن میں اس بچی کا خیال بار بار آ رہا تھا جس کے لئے وہ گڑیا خریدی گئی تھی۔ جب اس شخص کی اہلیہ وہاں پہنچی، تو اس کے چہرے پر لکھی کرب کی داستان فرحان کے لئے جانی پہچانی تھی۔ اس نے وہ خون آلود گڑیا اسے پکڑائی۔
عورت نے لرزتے ہاتھوں سے وہ کھلونا لیا اور سینے سے لگا لیا۔ “اس نے کہا تھا… آج گڑیا لے کر آؤں گا تو مل کر سالگرہ منائیں گے۔” اس کی سسکیاں اسپتال کے سناٹے کو چیر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا اور مسکراتے ہوئے کہا، “آپ اسے بروقت لے آئے، ورنہ بہت دیر ہو جاتی۔ اب وہ خطرے سے باہر ہے۔”
فرحان جب اسپتال سے باہر نکلا، تو ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا۔ پیچھے سے کسی نے آواز دی اپنا موبائل لیں، اس کی اسکرین ٹوٹ چکی تھی اور وہ بند پڑا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور ٹوٹے ہوئے موبائل کو دیکھ کر مسکرایا۔
آج اسے احساس ہوا کہ اصل زندگی اسکرین کی تابکاری میں نہیں، بلکہ کسی کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو روکنے میں ہے۔ وہ تماشائیوں کے اس شہر میں ایک بار پھر ’انسان‘ بن کر لوٹ رہا تھا۔ شہر کی روشنیاں اب بھی ویسی ہی تھیں، مگر اس کے اندر ایک ایسا چراغ جل چکا تھا جو کبھی نہیں بجھنے والا تھا۔
���
ٹیچر جی ایچ ایس ایس ترال
موبائل نمبر؛ 9596359446