عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پہلگام میں پیش آنے والا دلخرا ش اور انسانیت سوز حملہ وادی کشمیر کے سیاحتی شعبے کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، جس نے نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں کو اچانک مفلوج کردیا بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی استحکام کو بھی متاثر کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب وادی میں سیاحت اپنے عروج پر تھی اور مقامی معیشت اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسے انسانیت سوز واقعات کی موجودہ دور میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا زیاں کرتے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام نے اس حملے کی بھرپور مذمت کی اور مارے گئے بے گناہ افراد کے لواحقین کیساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وادی کے لوگ امن اور بھائی چارے کے خواہاں ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ اس افسوسناک واقعے کو ایک سال گزر چکا ہے، تاہم سیاحتی سرگرمیاں ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امسال ٹیولپ گارڈن کی سیر کرنے والے سیاحوں کی تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں آدھی رہی، جو سیاحتی شعبے کی سست روی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ کے فضل و کرم سے وادی میں سیاحوں کی آمد بتدریج بحال ہو رہی ہے اور مستقبل قریب میں یہ شعبہ ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت نہ صرف کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے بلکہ اس سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے، اس لئے اس کی بحالی نہایت ضروری ہے۔انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ جو سیاحتی مقامات تاحال بند ہیں انہیں جلد از جلد سیاحوں کیلئے کھولا جائے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آسکیں اور وادی کی معیشت دوبارہ مستحکم ہوسکے۔