عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// مرکزی حکومت نے سٹے بازی اور پیش گوئی مارکیٹ پلیٹ فارمز کے خلاف اپنا موقف سخت کر دیا ہے۔ آئی ٹی سکریٹری ایس کرشنن نے حال ہی میں اعلان کیا کہ پولی مارکیٹ اور کالشی جیسی پیش گوئی ایپس اب حکومت کی سخت جانچ کے دائرے میں ہیں۔ یہ اعلان آن لائن گیمنگ کے نئے ضوابط کی روشنی میں کیا گیا ہے جو یکم مئی سال 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔آئی ٹی سیکرٹری کے مطابق یہ پلیٹ فارم آئی پی ایل، انتخابی نتائج اور دیگر اہم ایونٹس پر سٹے بازی کی سہولت فراہم کر رہے ہیں جو کہ بھارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
حکومت نے واضح کیا کہ بھلے ہی یہ پلیٹ فارم غیر ملکی ہوں، لیکن یہ بھارتی صارفین کو سروس دینے کی وجہ سے یہ آن لائن گیمنگ ایکٹ کے ‘غیر علاقائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ حکومت آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت ان ایپس کو بلاک کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔اس کارروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کا استعمال ہے۔ پابندی کے باوجود، بہت سے صارفین وی پی این کے ذریعے ان سائٹس تک رسائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ سکریٹری کرشنن نے اسے “Whack-a-mole” صورت حال کے طور پر بیان کیا، جہاں بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ایک دروازہ بند کرتے ہی دوسرا کھل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “وی پی این کے کئی جائز استعمال بھی ہیں، لہذا جائز اور غیر قانونی استعمال کے درمیان فرق کرنا ایک باریک پروسس ہے جس پر وزارت کام کر رہی ہے۔”یکم مئی سے لاگو ہو رہے آن لائن گیمنگ (PROG) رولز، 2026 گیمنگ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس کے تحت آن لائن گیمنگ اتھارٹی آف انڈیا کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو ڈیجیٹل ریگولیٹر کے طور پر کام کرے گی۔مرکزی حکومت کا یہ اقدام آن لائن گیمنگ سیکٹر میں شفافیت اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ جہاں حکومت کا مقصد بھارت کو ڈیجیٹل تخلیقی صلاحیتوں کا عالمی مرکز بنانا ہے، وہیں وہ سٹے بازی اور غیر قانونی پیشن گوئی کے بازاروں پر مکمل پابندی لگانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔