ایجنسیز
نئی دہلی//وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو کہا کہ افریقہ آج بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک مرکزی مقام رکھتا ہے اور نئی دہلی کا اس کے ساتھ تعلق واضح وڑن کے تحت استوار ہے، جو برابری، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے۔بھارت-افریقہ فورم سمٹ-IV کے لیے لوگو، تھیم اور ویب سائٹ کی رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا، ’’ہم یہاں بھارت اور افریقہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کے اگلے مرحلے کا آغاز کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، جو بھارت-افریقہ فورم سمٹ کے فریم ورک کے تحت جاری ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ بھارت اور افریقہ کے تعلقات ہماری تہذیبی وابستگیوںمیں جڑے ہوئے ہیں، جو صدیوں سے ثقافتی تبادلوں اور انسانی روابط کے ذریعے پروان چڑھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا،’’یہ تعلقات اس وقت مزید مضبوط ہوئے جب بھارت نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف افریقی ممالک کی جدوجہد میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔‘‘وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی آزادی کی جدوجہد کی کہانی بھی افریقہ سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا،’’ہماری مشترکہ جدوجہد، یکجہتی، حوصلہ اور امنگیں آج بھی ہماری شراکت داری کو شکل دے رہی ہیں۔‘‘جے شنکر نے کہا کہ آج افریقہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک کلیدی مقام رکھتا ہے اور اس کے ساتھ تعلقات برابری، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی واضح وڑن کے تحت آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وکست بھارت 2047 کا وڑن اور افریقہ کا ‘‘ایجنڈا 2063’’ پائیدار ترقی اور جامع ترقی کے ذریعے خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کے تکمیلی روڈ میپ ہیں۔جے شنکر نے کہا کہ بھارت اور افریقہ کے درمیان تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں، جن میں اعلیٰ سطحی سیاسی روابط شامل ہیں، اور بھارت مسلسل عالمی نظامِ حکمرانی میں افریقہ کے جائز مقام کی حمایت کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سمت میں ایک ‘‘اہم قدم’’ 2023 میں بھارت کی صدارت کے دوران جی 20 میں افریقی یونین کو شامل کرنا تھا۔انہوں نے مزید کہا، ‘‘یہ ہمارے اس پختہ یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ گلوبل ساؤتھ کی آوازیں مستقبل میں عالمی حکمرانی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔’’