فیاض بخاری
بارہمولہ//ضلع بارہمولہ کے سرکاری اسکولوں میں جہاں آٹھویں جماعت تک طلبہ کو مفت درسی کتابیں فراہم کی جاتی ہیں، وہیں کشمیری زبان کی کتابوں کی عدم دستیابی نے طلبہ اور والدین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس اہم مسئلے کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی، جس کے باعث عوامی حلقوں میں بے چینی اور ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ والدین کے مطابق، ضلع کے بیشتر اسکولوں میں گزشتہ تین برسوں سے کشمیری زبان کی کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔ طلبہ کو بار بار یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ جلد ہی کتابیں فراہم کی جائیں گی، تاہم عملی طور پر صورتحال جوں کی توں ہے۔ اس تاخیر کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور وہ اپنی مادری زبان کی تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت مادری زبان کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف بنیادی تعلیمی وسائل کی عدم فراہمی اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کی تعلیم نہ صرف ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ طلبہ کی مجموعی تعلیمی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے بھی اس مسئلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے محکمہ تعلیم سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد کشمیری کتابوں کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو طلبہ کا تعلیمی نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔والدین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ضلع بارہمولہ کے تمام سرکاری اسکولوں میں کشمیری زبان کی کتابوں کی فوری دستیابی کو یقینی بنائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔