یو این آئی
نئی دہلی//مغربی ایشیا کے بحران اور توانائی کے شعبے میں سست روی کے باعث ہندوستان کے آٹھ بنیادی صنعتی شعبوں کی مجموعی پیداوار میں مارچ کے مہینے میں 0.4فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ وزارتِ تجارت و صنعت کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2025 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ان اہم شعبوں کی ترقی کی شرح منفی رہی ہے۔گزشتہ سال مارچ میں ان شعبوں کی پیداوار میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ فروری 2026 میں یہ شرح 2.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، مارچ میں کوئلہ، خام تیل، کھاد اور بجلی کی پیداوار میں کمی نے مجموعی اشاریوں کو نیچے گرا دیا۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق ان شعبوں میں سے چار میں پیداوار میں اضافہ جبکہ باقی چار میں کمی دیکھی گئی۔ کوئلہ کی پیداوار میں 4 فیصد اور خام تیل کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کھاد کے شعبے میں 24.6 فیصد کی نمایاں گراوٹ سامنے آئی، جبکہ بجلی کی پیداوار بھی 0.5 فیصد کم ہوئی۔دوسری جانب قدرتی گیس کی پیداوار میں 6.4 فیصد، ریفائنری مصنوعات میں 0.1 فیصد، اسٹیل میں 2.2 فیصد اور سیمنٹ کی پیداوار میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ان بنیادی صنعتی شعبوں کی مجموعی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے۔پورے مالی سال 2025-26 کے دوران ان آٹھ بنیادی شعبوں کی مجموعی شرحِ نمو 2.6 فیصد رہی، جو کورونا دور کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ گزشتہ مالی سال یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔مالی سال کے دوران اسٹیل اور سیمنٹ کے شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، تاہم تیل، گیس، کوئلہ، ریفائنری مصنوعات اور کھاد کے شعبوں میں کمی نے مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا۔معاشی ماہرین کے مطابق عالمی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھا آئندہ مہینوں میں بھی صنعتی پیداوار پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر پالیسی سطح پر توجہ کی ضرورت ہے۔