عظمیٰ نیوزسروس
بارہمولہ// بارہمولہ اور سوپور کے جڑواں قصبوں میں ٹریفک کو منظم کرنے اور رش کم کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا نیا ٹریفک پلان اگرچہ بعض علاقوں میں عارضی راحت کاباعث بنا ہے، تاہم اس نے شہری نظم و نسق اور منصوبہ بندی میں موجود خامیوں پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔اگرچہ اس اقدام کو مجموعی طور پر سراہا گیا ہے، لیکن متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے گہرے ساختی مسائل بھی بے نقاب ہوئے ہیں، جن میں بے قابو اسٹریٹ وینڈنگ، غیر منظم پبلک ٹرانسپورٹ اور جامع شہری نقل و حرکت کے فریم ورک کی عدم موجودگی شامل ہے۔نفاذ کے ساتھ ہی حکام کو اب ان سٹریٹ فروشوں کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے جن پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کا الزام ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہمولہ شہر میں تقریباً 420 رجسٹرڈ وینڈرز ہیں، جبکہ سینکڑوں بغیر رجسٹریشن کے کام کر رہے ہیں، جو ریگولیشن میں خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ سوپور میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں طرح کے وینڈرز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔’وینڈر ہب‘ کے قیام کی تجویز، جو اس مسئلے کا ممکنہ حل سمجھی جا رہی تھی، تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
ضلعی انتظامیہ نے اس کے لیے جگہ بھی مختص کی تھی، مگر منصوبہ زمینی سطح پر نافذ نہیں ہو سکا۔ایک مقامی رہائشی ارشد احمد نے کہا، ’’اسٹریٹ وینڈرز کی بڑھتی تعداد دکانداروں سے زیادہ ہو گئی ہے، مگر حکام وینڈر ہب قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو صورتحال اتنی پیچیدہ نہ ہوتی۔‘‘حالیہ بے دخلی مہمات نے بھی وینڈرز میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ ان میں سے اکثر کا انحصار اسی کاروبار پر ہے اور انہیں کوئی واضح متبادل فراہم نہیں کیا گیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف وینڈنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ مجموعی منصوبہ بندی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق شہری توسیع سے متعلق پالیسیاں ان قصبوں کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکیں۔سول سوسائٹی کے اراکین نے ای آٹو اور سومو گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے، جو بغیر کسی مخصوص سٹینڈ کے چل رہی ہیں۔ ایک مقامی شہری منظور احمد نے کہا، ’’سینکڑوں ای آٹو چلانے کی اجازت دی گئی ہے، مگر ان کے لیے کوئی مخصوص جگہ یا اسٹینڈ نہیں۔ نتیجتاً یہ سڑکوں پر کھڑی ہو کر ٹریفک جام کا سبب بنتی ہیں۔ سومو گاڑیوں کا بھی یہی حال ہے، جہاں جگہ جگہ غیر قانونی اسٹینڈ قائم ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ زمینی حقائق کا جائزہ لیے بغیر پرمٹ جاری کرنے سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور ٹرانسپورٹ پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ایک اور رہائشی شعیب نے سوال اٹھایا،’’صرف وینڈرز کو ہی کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟‘‘یہ رائے کئی افراد میں مشترک ہے کہ پالیسی فیصلے اکثر الگ الگ کیے جاتے ہیں، جن میں ٹریفک مینجمنٹ، وینڈنگ ریگولیشن اور پبلک ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی کو یکجا نہیں کیا جاتا۔مخصوص سٹینڈز کی کمی، کمزور نفاذ اور ناقص روٹ پلاننگ نے کئی سڑکوں کو غیر رسمی پارکنگ زونز اور گنجان ٹریفک راہداریوں میں تبدیل کر دیا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جب تک ایک مربوط اور طویل مدتی حکمت عملی نہیں اپنائی جاتی—جس میں ٹریفک بہاؤ، وینڈرز کا نظم و نسق اور پبلک ٹرانسپورٹ شامل ہو—تب تک صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، چاہے وقتی اقدامات کچھ ریلیف ہی کیوں نہ فراہم کریں۔