یو این ایس
سرینگر// کشمیر میں سرگرم ایک بین ریاستی ملی ٹینٹ نیٹ ورک کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ عمر حارث عرف خرگوش جعلی پاسپورٹ کے ذریعے ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب میں موجود ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق مذکورہ ملی ٹینٹ نے ”سجاد” کے نام سے جعلی شناخت اختیار کی اور خود کو راجستھان کا رہائشی ظاہر کرتے ہوئے پاسپورٹ حاصل کیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ پہلے انڈونیشیا گیا اور بعد ازاں وہاں سے مزید جعلی دستاویزات استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب منتقل ہو گیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جموں و کشمیر پولیس نے ایک گہرے اور منظم بین ریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا۔ اس کارروائی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو پاکستانی بھی شامل ہیں۔ اس کیس کی سنگینی کے پیش نظر امکان ہے کہ اسے جلد ہی قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کیا جائے گا۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ عمر حارث کا تعلق پاکستان کے خیبر پختونخواہ سے ہے اور وہ ماضی میں کراچی میں مجرمانہ مقدمات سے بچنے کے لیے لشکرِ طیبہ میں شامل ہوا تھا۔ بعد ازاں اسے 2012 میں کشمیر بھیجا گیا، جہاں اس نے مختلف علاقوں میں پناہ لی اور ایک مقامی او جی ڈبلیو (اوور گراؤنڈ ورکر) کی بیٹی سے شادی بھی کی۔کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے افراد میں سری نگر کے رہائشی محمد نقیب بٹ، عادل رشید بٹ اور غلام محمد میر عرف ماما شامل ہیں، جن پرملی ٹینٹوں کو پناہ، خوراک اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے الزامات ہیں۔ ابتدائی گرفتاری 31 مارچ کو پانڈچھ علاقے سے عمل میں آئی، جہاں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گرفتار افراد کے انکشافات کی بنیاد پر کئی خفیہ ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے، جو سری نگر اور اس کے مضافاتی جنگلاتی علاقوں میں قائم تھے۔حکام کے مطابق گرفتار پاکستانی عبداللہ عرف ابو حریرہ اور عثمان عرف خبیب گزشتہ 16 برسوں سے کشمیر میں سرگرم تھے اور مختلف اضلاع میں نیٹ ورک قائم کر چکے تھے۔حکام کے مطابق سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ مفرور ملی ٹینٹ کو واپس لا کر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
لشکرِ طیبہ کا’خرگوش’ سعودی عرب میں موجود | بین ریاستی نیٹ ورک بے نقاب، متعدد گرفتاریاں