عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سال رواں میںحج 25026کیلئے ملک بھر سے ایک لاکھ 75ہزار سے زائد عازمین روانہ ہو رہے ہیں۔ جموں کشمیر سے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ آج یعنی سنیچروارسے ہوگا اور سرینگر سے براہ راست عازمین کو لیکر پرواز جد ہ کیلئے روانہ ہو گی۔ملک بھر کے مختلف سفری مقامات سے مجموعی طور پر 1,75,025 عازمین حج کے اس مقدس سفر کو انجام دینے کی امید ہے۔اقلیتی امور کے وزیر جناب کرن رججو نے تمام عازمین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور ہموار، محفوظ اور آرام دہ حج کے تجربے کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزارت نے اس سال حجاج کے لیے خدمات کے معیار کو مزید بڑھانے کے لیے کئی نئے اقدامات کیے ہیں۔وزارت برائے اقلیتی امور نے حج کی نوڈل وزارت کے طور پر حج کمیٹی آف انڈیا، دیگر مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور سعودی حکام کے ساتھ مل کر جامع انتظامات کیے ہیں۔
ان کوششوں کا مقصد حجاج کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے لاجسٹکس اور بہتر زمینی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔حج 2026 کے لیے متعارف کرائے گئے کلیدی نئے اقدامات میں حج سہولت ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل سہولت کو بڑھانا، گمشدہ عازمین کو تلاش کرنے اور مدد کرنے کے لیے حاجیوں کے لیے حج سہولت سمارٹ رِسٹ بینڈ کی تعیناتی، اور مسافروں کو بڑی سہولت فراہم کرنے کے لیے پہلی بار تقریباً 20 دنوں کے مختصر دورانیے کے حج آپشن کا تعارف شامل ہے۔ادھرسعودی عرب حکومت نے ایک اہم فیصلہ میں اعلان کیا ہے کہ سال رواں میں حج کی ادائیگی کے دوران غیر قانونی حج داخلے پر 24.9 لاکھ روپے تک جرمانے اور دس سال کی پابندی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اجازت نامے کے بغیر حج کرنے والے یا غیر قانونی طور پر ایسا کرنے میں وزٹ ویزا رکھنے والوں کی مدد کرنے والے افراد کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے، جس میں ایک دس ہزار ریال (تقریباً 24.9 لاکھ روپے) تک کے جرمانے شامل ہیں۔وزارت نے لوگوں اور عازمین حج پر زور دیا کہ وہ حج کے ضوابط پر سختی سے عمل کریں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع دیں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ سزا پانے والے 30 دن کے اندر شکایت درج کر سکتے ہیں اور 60 دنوں کے اندر انتظامی عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔