فیاض بخاری
بارہمولہ//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مرکزی حکومت کو عوام کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت عوام کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات نہیں کرے گی، اس وقت تک جموں و کشمیر میں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔
ان باتوں کا اظہار محبوبہ مفتی نے بارہمولہ میں منعقدہ ایک کتھ باتھ پروگرام کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت جلد یا بدیر اس حقیقت کو سمجھے گی کہ سخت قوانین جیسے UAPA اور AFSPA کے ذریعے عوام کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کے دل جیتنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے عوام کے مسائل کے حل اور دیرپا امن کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے قبل پی ڈی پی کی صدر نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام خود کو گھٹن اور تنہائی کا شکار محسوس کر رہے ہیں اور ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں وہ اپنے جذبات اور تکالیف کا اظہار کھل کر نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا، ‘‘اس پروگرام کا مقصد عوام کی آواز سننا، ان کے خدشات کو سمجھنا اور ان کے مستقبل کے وڑن کو جاننا ہے۔’’محبوبہ مفتی نے مزید کہا، ‘‘ہم عوام کو یہ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا رکاوٹ کے اپنے مسائل اجاگر کر سکیں۔’’یہ پروگرام تاحال جاری ہے، جس میں سول سوسائٹی کے اراکین اور پارٹی کارکنان بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔