عظمیٰ نیوز سروس
حیدرآباد// تلنگانہ میں ایک تازہ سماجی و معاشی سروے نے ریاست کی ترقی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2.16 لاکھ لڑکیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہی شادی کے بندھن میں بندھ رہی ہیں، جو کہ ریاست کی نوجوان خواتین کی آبادی کا تقریباً 5 فیصد بنتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف کاغذی طور پر کم عمری کی شادی پر پابندی عائد کرنا کافی نہیں، کیونکہ معاشرتی روایات اور سوچ اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف پسماندہ یا دیہی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ سماجی طور پر ترقی یافتہ طبقات میں بھی نمایاں ہے۔ آیینگر اور آیئر برادریوں میں کم عمری کی شادی کی شرح 21.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ریاستی اوسط سے چار گنا زیادہ ہے، جبکہ جین برادری میں یہ شرح 11 فیصد ہے۔ اسی طرح دیگر طبقات جیسے بی سی-اے گنگی ریڈو میں 8 فیصد شرح دیکھی گئی، جبکہ مسلم برادریوں، خصوصاً شیخ گروپس (او سی اور بی سی-ای) میں بھی کم عمری کی شادیوں کے معاملے سامنے آئے ہیں۔یہ رجحان اس مفروضے کو بھی غلط ثابت کرتا ہے کہ تعلیم اور معاشی ترقی خود بخود سماجی برائیوں کو ختم کر دیتی ہے۔ سروے کے مطابق سماجی روایات اب بھی ترقی پر غالب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں تقریباً 65.5 فیصد خواتین دسویں جماعت کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ قبائلی برادریوں میں صورتحال مزید خراب ہے، جہاں 83 فیصد کولم خواتین ثانوی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔دیگر برادریوں جیسے ایس سی بیڈا، بی سی-ڈی مالی، بی سی-اے اوڈے اور ایس ٹی گونڈ میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے۔ تاہم برہمن، راجو، جین، ویسیا، کمّا اور آیینگر/آیئر طبقات میں خواتین کی تعلیمی رسائی نسبتاً بہتر ہے۔ اس کے باوجود کچھ پسماندہ طبقات، جیسے مالا خواتین، ریاستی اوسط سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ترقی یکساں نہیں بلکہ غیر متوازن ہے۔