محتشم احتشام
پونچھ//حالیہ دنوں میں مقامی سیاست ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی جب اعجاز احمد جان کی پریس کانفرنس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ ایک طرف بعض شہریوں نے ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے تنقید کی، تو دوسری جانب کئی افراد نے انہیں ایک مخلص اور عوام دوست رہنما قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اظہار کیا۔تنقیدی آراء میں کہا گیا کہ پریس کانفرنس کے دوران زیادہ تر وقت اپوزیشن پر تنقید میں صرف کیا گیا، جبکہ عوامی مسائل اور گزشتہ دو برسوں میں کیے گئے عملی اقدامات پر تفصیلی روشنی نہیں ڈالی گئی۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ منڈی روڈ جیسے اہم ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ حالت خود حکومتی دعووں کی حقیقت بیان کرتی ہے۔ ان کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے صرف افتتاحی تقاریب اور علامتی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسی طرح ڈسٹرکٹ ہسپتال پونچھ میں ماڈل لیبارٹری کے منصوبے کی بندش پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ناقدین کے مطابق یہ منصوبہ عوام کے لیے ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتا تھا، تاہم اسے سیاسی وجوہات کی بنا پر روک دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں بنیادی مقصد علاج کی فراہمی ہے، نہ کہ محض جگہ کی کمی کو جواز بنا کر سہولیات کو محدود کرنا۔دوسری جانب، اعجاز احمد جان کے حامیوں نے انہیں ایک دیانتدار، باوقار اور عوام کے مسائل کو سمجھنے والا رہنما قرار دیا۔ شبیر احمد صدیقی سمیت کئی شہریوں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عوامی فلاح کو ترجیح دی اور ان کی قیادت میں متعدد مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے رہنما کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جو سادگی اور خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت کریں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عوام میں شعور بیدار ہو چکا ہے اور اب وہ صرف دعووں کے بجائے عملی کارکردگی اور حقیقی ترقی کے خواہاں ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مقامی قیادت عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔