عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے جموں کشمیر میں دو بڑے ٹنل پروجیکٹوں کی تعمیر کے لئے سات ہزار سات سو اناسی کروڑ روپے کی منظوری پر وزیر اعظم نریندر مودی اور سڑک و شاہراوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سماجی رابطے کی وئب سائٹ ایک پر اپنے پیغام میں سید محمد الطاف بخاری نے لکھا، ’’مجھے بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے دو بڑے ٹنل منصوبوں کے لیے 9,779.42 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ ان پروجیکٹوں کے نتیجے میں چناب خطے اور کشمیر وادی کے درمیان ہر موسم میں زمینی رابطہ ممکن ہوگا۔ یہ واقعی ایک شاندار پیش رفت ہے اور انتہائی اطمینان کا باعث ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ اہم منصوبے جموں کے ڈوڈہ، کشتواڑ اور ادھم پور، اور وادی کے اننت ناگ کے درمیان سفر کو تیز، محفوظ اور زیادہ قابلِ اعتماد بنائیں گے۔ ادھم پور کے سدھ مہادیو سے ڈوڈہ کے درنگا تک اور کشتواڑ کے سنگھ پورہ سے اننت ناگ کے ویلو تک یہ ٹنلز ان خطوں کے درمیان فاصلوں کو نمایاں طور پر کم کریں گی اور لوگوں کو تھکا دینے والے اور وقت طلب سفر سے نجات دلائیں گی۔‘‘وزیر اعظم اور مرکزی وزیر برائے شاہراہیں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اس تاریخی پیش رفت پر میں وزیر اعظم نریندر مودی اور سڑک و شاہراوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے اس دیرینہ خواب کو پورا کیا۔‘‘ادھراپنی پارٹی نے معروف سیاحتی مقام یوسمرگ کے تئیں انتظامیہ کی عدم توجہی پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی سربراہ سید محمد الطاف بخاری کی قیادت میں رہنماؤں نے کل یوسمرگ کا دورہ کیا، جہاں مقامی تاجروں کے ایک وفد نے اْنہیں ان مسائل سے آگاہ کیا، جن کی وجہ سے یہ خوبصورت مقام بْری طرح متاثر ہوچکا ہے اور یہاں سیاحتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔یوسمرگ میں مقامی دکانداروں، ہوٹل مالکان، ریسٹورنٹ مالکان، گھوڑے بانوں اور دیگر افراد پر مشتمل ایک وفد نے اپنی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی اور بتایا کہ سرکاری بے حسی نے یوسمرگ میں سیاحتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں اور سیاحتی شعبے سے منسلک لگ بھگ سات سو سے زائد کْنبے متاثر ہورہے ہیں۔اراکینِ وفد نے بخاری اور ان کے ہمراہ دیگر پارٹی رہنماؤں کو بتایا، ’’گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں حملے کے بعد دیگر متعدد سیاحتی مقامات کی طرح یوسمرگ کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں اسے دوبارہ کھولا گیا، تاہم پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔ یہ پابندیاں اس قدر سخت ہیں کہ انتظامیہ تاجروں کو سہ پہر تین بجے ہی اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ مزید یہ کہ علاقے میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کی عدم موجودگی کے باعث موبائل فون کام نہیں کرتے، جس سے سیاح آن لائن ادائیگیاں کرنے اور اے ٹی ایمز استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔‘‘وفد نے سید محمد الطاف بخاری اور دیگر اہم پارٹی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس سیاحتی مقام کو سرکاری عدم توجہی سے نجات دلائیں اور سیاحت کی بحالی کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کروائیں۔