محتشم احتشام+رمیش کیسر
پونچھ+راجوری// ضلع پونچھ کے ساتھ ساتھ راجوری ضلع اور نوشہرہ سب ڈویژن میں بیساکھی کا مقدس تہوار نہایت عقیدت، جوش و خروش اور مذہبی احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس بابرکت موقع نے ایک بار پھر پورے خطے میں بین المذاہب ہم آہنگی، بھائی چارے اور ثقافتی یگانگت کی روشن مثال قائم کی۔ضلع پونچھ میں سنت پور شری ڈیرہ ننگالی صاحب میں مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنی مذہبی وابستگی کا اظہار کیا۔ گوردوارہ میں صبح سے ہی روحانیت سے بھرپور ماحول دیکھنے کو ملا، جہاں سکھ برادری کے ساتھ ساتھ ہندو، مسلم اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے۔ عقیدت مندوں نے گوردوارہ پہنچ کر ماتھا ٹیکا، ارداس کی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں۔
تقریب کے دوران کیرتن، مذہبی خطبات اور لنگر کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جس میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بلا تفریق شرکت کی۔ لنگر کی اجتماعی روایت نے مساوات، خدمت اور انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو عملی شکل میں پیش کیا، جو بیساکھی کے پیغام کا اہم حصہ ہیں۔ اس موقع پر پورا ماحول عقیدت، سکون اور خوشیوں سے معمور دکھائی دیا۔ادھر راجوری ضلع کے مختلف علاقوں میں بھی بیساکھی کے سلسلے میں تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مذہبی مقامات پر خصوصی دعائیہ تقاریب، کیرتن اور لنگر کا اہتمام کیا گیا، جبکہ نوجوانوں اور بچوں نے بھی اس تہوار کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اسی طرح نوشہرہ سب ڈویژن میں بھی بیساکھی نہایت جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ یہاں مختلف کمیونٹی سینٹرز اور مذہبی مقامات پر تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی اور امن و بھائی چارے کے پیغام کو عام کیا۔قابل ذکر ہے کہ پونچھ کے ڈیرہ ننگالی صاحب میں بیساکھی کے موقع پر خصوصی میلہ بھی لگتا ہے، جس میں دور دراز علاقوں سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس میلے میں نہ صرف مذہبی سرگرمیاں بلکہ ثقافتی پروگرامز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جو علاقے کی روایتی شناخت کو اجاگر کرتے ہیں۔مقامی عمائدین اور سماجی شخصیات کا کہنا تھا کہ بیساکھی نہ صرف فصلوں کی کٹائی کی خوشی کا تہوار ہے بلکہ یہ محبت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات معاشرے میں ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ اتحاد، بھائی چارے اور امن کے پیغام کو فروغ دیتے رہیں گے۔ ضلع پونچھ، راجوری اور نوشہرہ میں بیساکھی کی تقریبات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ خطہ ہمیشہ سے امن، یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے۔
ریاسی کے ڈیرہ بابا بندہ بہادر میں بیساکھی کی رنگا رنگ تقریبات
عظمیٰ نیوز سروس

ریاسی// ضلع ریاسی کے تاریخی مقام ڈیرہ بابا بندہ بہادر گوردوارہ صاحب میں بیساکھی کا تہوار نہایت عقیدت، جوش و خروش اور مذہبی احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ایک روح پرور منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب گوردوارہ صاحب کے مقدس شستر، تلواریں اور دیگر اشیاء کو دریا چناب میں غسل دے کر دوبارہ گوردوارہ میں لایا گیا، جس کے ساتھ ہی بیساکھی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔اس بابرکت موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں نے شرکت کر کے مذہبی وابستگی اور عقیدت کا اظہار کیا۔ گوردوارہ میں نگر کیرتن، ارداس اور لنگر کا اہتمام کیا گیا، جہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بلا تفریق شرکت کی۔ اس موقع پر بھائی چارے، محبت اور امن کا پیغام نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا۔دوسری جانب بیساکھی کے ساتھ ہی کسانوں نے اپنی گندم کی فصل کی کٹائی کا آغاز کیا، جسے خوشی اور شکرگزاری کے تہوار کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ دور دراز علاقوں خصوصاً پنجاب اور ہریانہ سے آئے ہوئے یاتریوں نے اس تقریب کو مزید رونق بخشی اور اجتماعی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال قائم کی۔معروف سماجی شخصیت عبدالقادر کنڈریا نے اس موقع پر عوام کو بیساکھی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آنے والے جتھے اور مقامی عوام مل کر اپنی خوشیاں بانٹتے ہیں اور ملک میں امن، محبت اور بھائی چارے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مواقع قوموں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریبات کے دوران روایتی کھیل تماشے بھی منعقد ہوئے، جن میں دنگل کشتی، ڈھول اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان پروگرامز نے نہ صرف حاضرین کو محظوظ کیا بلکہ صدیوں پرانی روایات کو بھی زندہ رکھا۔شرکاء میں دہلی، ہریانہ اور دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے مہمانوں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آ کر دلی سکون ملا اور بین المذاہب ہم آہنگی کی یہ مثال قابلِ تقلید ہے۔اختتام پر عبدالقادر کنڈریا نے انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس، آرمی اور دیگر ایجنسیوں نے بہترین انتظامات کر کے تقریب کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے ایک بار پھر عوام کو بیساکھی کی مبارکباد پیش کی۔
درابہ میں بیساکھی کے موقع پر فوج کی شاندار تقریب
سابق فوجیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کی بھرپور شرکت
محتشم احتشام
پونچھ//بیساکھی کے موقع پرضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے درابہ میں 16 آر آر (راشٹریہ رائفلز) کی جانب سے ہر سال کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک شاندار اور باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کے علاوہ سرنکوٹ اور درابہ کی سول سوسائٹی کے معزز اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا مقصد نہ صرف بیساکھی جیسے ثقافتی و مذہبی تہوار کی خوشیوں کو مشترکہ طور پر منانا تھا بلکہ فوج اور عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا بھی تھا۔ اس موقع پر ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جنہوں نے ملک کی حفاظت اور امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تقریب میں سرنکوٹ اور درابہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معزز شہریوں نے شرکت کر کے اس بات کا اظہار کیا کہ فوج اور عوام کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد خطے کے امن کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شرکاء نے اس اقدام کو فوج کی عوام دوستی کی ایک بہترین مثال قرار دیا۔پروگرام کے دوران ثقافتی رنگ بھی نمایاں رہا، جہاں مقامی روایات اور بیساکھی کی خوشیوں کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات نہ صرف تہذیبی ورثے کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہیں۔فوجی حکام نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈین آرمی ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے پروگرامز کے ذریعے عوامی رابطہ مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ خطے میں امن، ترقی اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہو۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ بیساکھی کی یہ خوشیاں امن، اتحاد اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئیں گی، جبکہ فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ مستقبل میں مزید مستحکم ہوگا۔