حکومت آنے کے بعد ایک نئی بہار اور نئی شروعات کی راہیں بنیں :عمر عبداللہ
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل اننت ناگ کے جبلی پورہ میں بیساکھی کے موقع پر جشنِ آمدِ بہار کا افتتاح کیا۔اس موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بہار کو تجدید اور امید کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار نہ صرف موسمی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ جموں و کشمیر میں ترقی اور حکمرانی کے ایک نئے دور کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ” ہم ہمیشہ موسم بہار کی آمد کا جشن مناتے ہیں کیونکہ موسم بہار ہمارے لئے ایک نئی شروعات ہے ، یہ جشنِ بہاراں نہ صرف اس سال کے موسم بہار کے آغاز کو منانے کیلئے ہیں بلکہ لوگوں کو یہ یاد دلانے کیلئے بھی ہیں کہ ہماری حکومت کے آنے کے بعد نہ صرف کوشش کی گئی تھی بلکہ ایک نئی بہار ، ایک نئی شروعات کیلئے ایک راستہ بنایا گیا تھا۔حالیہ پالیسی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران لئے گئے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا ، جن میں غریب ترین گھرانوں کو مفت چھ ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی اور سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت مفت بجلی شامل ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی اجازت دینے کے تاریخی فیصلے پر بھی زور دیا جس کا مقصد جموں و کشمیر کے اندر معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا ” ہمارے بچے جدو جہد کر رہے ہیں ، دوسری ریاستوں میں پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کیلئے ان کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں اور انہیں وقتاً فوقتاً مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت جدید اور پائیدار ڈیری فارمنگ کے فروغ کے ذریعے خطے کو سفید انقلاب کے متحرک مرکز میں تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیری انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے ، دودھ کی پیداوار کو بڑھانے اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے کیلئے بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ خطے کی بے پناہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ دودھ کی پروسیسنگ یونٹس کے قیام ، زیادہ پیداوار دینے والے مویشیوں کی فراہمی ، ویٹر نری سپورٹ اور مارکیٹ کے بہتر روابط جیسے اقدامات کو فعال طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔