غلام نبی رینہ
کنگن //13.15کلومیٹر زوجیلا ٹنل، جو ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ ہائی اونچائی والی سڑک کی سرنگ کے طور پر تعمیر کی جارہی ہے، مئی میں ایک اہم پیش رفت کے قریب ہے۔ ڈویلپرز (MEIL) نے اونچائی کے چیلنجوں پر قابو پاتے ہوئے 12 کلومیٹر سے زیادہ کھدائی مکمل کر لی ہے۔ یہ سنگ میل سرینگر اور لیہہ کے درمیان سال بھر ہمہ موسمی رابطے کو قابل بنائے گا۔میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچرز لمیٹڈ کے مطابق 13.153 کلومیٹر سرنگ میں سے تقریبا ً12 کلومیٹر سے زیادہ کی کھدائی ہو چکی ہے۔ صرف 325-850 میٹر کھدائی باقی ہے، جس میں مئی 2026 کے آخر تک مکمل پیش رفت متوقع ہے۔پیر کو لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونائی کمار سکسینہ نے جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کرنے کے لیے ٹنل کے مشرقی پورٹل کا دورہ کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر کو پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ کی جانب سے 6,808.69 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت سے اس ٹنل کو مکمل کیا جا رہا ہے، جس کے فروری 2028 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 2026 کے وسط تک ٹنل کی بریک تھرو متوقع ہے۔پروجیکٹ میں جدید انجینئرنگ خصوصیات شامل ہیں، جن میں ہر 750 میٹر کے فاصلے پر lay-by اور تین وینٹیلیشن شافٹ شامل ہیں تاکہ آپریشنل کارکردگی اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ لیفٹیننٹ گورنر کو کھدائی کے لیے مغربی اور مشرقی دونوں پورٹلز سے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (NATM) کے استعمال کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ تاہم، حکام نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بعض حصوں میں چٹان کے ناقص معیار نے چیلنجز کو جنم دیا ہے، جس سے پیشرفت کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔