محتشم احتشام
پونچھ//جموں و کشمیر کے سرحدی اور پہاڑی خطۂ پیر پنجال میں رابطہ کاری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر وزارتِ ریلوے نے مجوزہ ریاسی۔پونچھ ریلوے لائن کے لیے فائنل لوکیشن سروے (FLS) کی منظوری دے دی ہے، جسے عوامی و علاقائی ترقی کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سروے 26.41 کروڑ روپے کی لاگت سے انجام دیا جائے گا اور اسے ناردرن ریلوے کے سپرد کیا گیا ہے۔ تقریباً 190 کلومیٹر طویل اس مجوزہ ریلوے لائن کا سروے گزشتہ برس دسمبر میں پیش کردہ تجویز کے بعد 8 اپریل کو باضابطہ طور پر منظور کیا گیا۔اس پیش رفت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے بشیر جٹ، ڈاکٹر ادیش پال شرما اور گگندیپ سنگھ نے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے نہایت اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف آمد و رفت کو بہتر بنائے گا بلکہ سیاحت، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی جہت دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیر پنجال کے عوام طویل عرصے سے ریلوے رابطہ کاری کے منتظر تھے اور یہ سروے اس خواب کی تعبیر کی جانب ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوگا۔ سروے کے ذریعے منصوبے کی فزیبلٹی، راستہ بندی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جو مستقبل میں اس کے عملی نفاذ کی بنیاد فراہم کرے گا۔دریں اثنا، بشیر جٹ نے ضلع پونچھ کے شعبۂ صحت کی سنگین صورتحال کی جانب بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ ہسپتال پونچھ میں ڈاکٹروں کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صحت کی بنیادی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں، لہٰذا حکومت کو فوری طور پر مزید طبی عملہ تعینات کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں ریلوے جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں، وہیں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانا بھی عوامی فلاح کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ریاسی۔پونچھ ریلوے سروے کی منظوری کو دور دراز علاقوں کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے اور جموں و کشمیر میں ہمہ جہتی ترقی کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔