سمت بھارگَو
راجوری// عزم اور حوصلے کی ایک متاثر کن داستان میں، سرحدی ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے بے گھر نوعمر باکسر محمد یاسر نے آنے والی ایشین باکسنگ چیمپئن شپ کے لیے بھارتی قومی ٹیم میں اپنی جگہ بنا لی ہے، جو یکم مئی سے ازبکستان میں منعقد ہوگی۔یاسر کا انتخاب انڈر-15 کیٹیگری میں 55سے57کلوگرام وزن کے زمرے میں کیا گیا ہے، جو ان کے ابھرتے ہوئے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ “کھیلو انڈیا” مہم کے تحت تربیت حاصل کرنے والے یاسر کا سفر شدید مشکلات سے قومی سطح تک پہنچنے کی ایک روشن مثال ہے۔سخت حالات میں زندگی گزارنے والے یاسر کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ 2017میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران ان کا گھر مسمار ہو گیا تھا، جس کے بعد ان کے والد کا انتقال بھی ہو گیا۔ اس کے بعد سے یاسر اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک خستہ حال سرکاری عمارت میں رہائش پذیر ہیں، جو نہ رہنے کے قابل ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات سے آراستہ ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود یاسر نے اپنے خوابوں کا تعاقب جاری رکھا۔ ان کی والدہ، جو گھروں میں برتن دھونے کا کام کرتی ہیں، خاندان کی واحد کفیل ہیں اور بڑی مشکل سے گھر کا خرچ چلاتی ہیں۔یاسر کی صلاحیت کو تقریباً دو سال قبل “کھیلو انڈیا‘‘کے کوچ اشتیاق ملک نے پہچانا، جب انہوں نے اسے مقامی بازاروں میں گھومتے ہوئے دیکھا۔ ان کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے کوچ نے انہیں اپنی سرپرستی میں لے لیا اور باکسنگ کی تربیت دینا شروع کی۔مختصر عرصے میں ہی یاسر نے نمایاں کارکردگی دکھائی اور چند ماہ قبل قومی چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔پٹیالہ، پنجاب سے سلیکشن ٹرائلز میں شرکت کے بعد واپسی پر، یاسر کا ان کی والدہ نے ان کی عارضی رہائش گاہ پر جذباتی استقبال کیا۔ فخر اور خوشی سے مغلوب ہو کر وہ اپنے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں، جس کی کامیابیوں نے اس جدوجہد کرنے والے خاندان کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کی ہے۔