عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر میں حالیہ غیر موسمی بارشوں اور ژالہ باری نے ربیع فصلوں، خصوصاً گندم اور باغبانی سے وابستہ فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات کی پیشگی وارننگ کے باوجود کسانوں کو بڑے پیمانے پر خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق 7 اپریل سے ایک طاقتور ویسٹرن ڈسٹربنس کے زیر اثر جموں و کشمیر سمیت شمال مغربی بھارت کے کئی علاقوں میں تیز بارشیں، آندھی اور ژالہ باری ہوئی، جس کے باعث کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں۔دریں اثنا، مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ ملک بھر میں اب تک تقریباً 2.49 لاکھ ہیکٹر رقبے پر ربیع فصلوں کو نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ نقصانات کا مکمل اندازہ لگانے کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تین مختلف محکمے فصلوں کے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور حتمی رپورٹ جلد سامنے آئے گی۔ ان کے مطابق گندم کی فصل سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جبکہ باغبانی کی فصلوں کو بھی خاصا نقصان پہنچا ہے۔وزیر زراعت نے یقین دلایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت اس مشکل وقت میں کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرہ ریاستوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ زمینی صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق 5 اپریل کو ہی وزارت زراعت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جامع جائزہ لیں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل بڑھائیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر جیسے حساس زرعی خطے میں اس طرح کی غیر موسمی تبدیلیاں کسانوں کے لیے شدید خطرہ بن رہی ہیں، جہاں پہلے ہی موسمی غیر یقینی صورتحال معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ادھر کسانوں نے حکومت سے فوری معاوضے اور امدادی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے اور آنے والے سیزن کے لیے انہیں سہارا مل سکے۔