بلال فرقانی
سرینگر//کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کی تازہ رپورٹ میں جموں و کشمیر کے مالیاتی نظام میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں اخراجات کی غلط درجہ بندی اور بجٹ کے ناقص استعمال کو اجاگر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر حکومت نے مالی سال 2024-25کے دوران 636.24 کروڑ روپے کے ریونیو(محصولی ) اخراجات کو سرمایہ جاتی اخراجات(کیپٹل ایکسپنڈیچر) کے طور پر ظاہر کیا، جس کے نتیجے میںاضافی ریونیو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔سرکاری اکاؤنٹنگ ضوابط 1990 کے تحت صرف وہ اخراجات سرمایہ جاتی اخراجات شمار ہوتے ہیں جو مستقل اور اثاثوں کی تخلیق کا باعث بنیں، تاہم آڈٹ میں پایا گیا کہ 12,060.06 کروڑ روپے کے دکھائے گئے کپٹل ایکسپنڈیچر اخراجات میں سے ایک بڑی رقم اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔غلط درجہ بندی شدہ رقم میں 82 کروڑ سبسڈی، گرانٹس اِن ایڈ اور مقامی اداروں کی امداد کی مد میں خرچ کیے گئے، جبکہ 554.24 کروڑ ریاستی پبلک سیکٹر اداروں کے اثاثے بنانے پر صرف کیے گئے۔ ان اداروں میں جموں کشمیرٹرانسکام،ڈسکام کیلئے539.22 کروڑ، جے کے ٹی ڈی سی کیلئے2.56 کروڑاور جموں کشمیر ہارٹیکلچر پرموشن مارکیٹنگ کارپوریشن کیلئے12.46 کروڑ روپے شامل ہیں۔سی اے جی نے واضح کیا کہ جب تک اس نوعیت کے اخراجات کو حکومتی ایکویٹی میں تبدیل نہ کیا جائے، انہیں سرمایہ جاتی اخراجات نہیں بلکہ ریونیو اخراجات ہی شمار کیا جائے گا۔ آڈٹ کے بعد اصل سرمایہ جاتی اخراجات 11,423.82 کروڑ روپے رہ گئے۔رپورٹ میں محکمہ جاتی سطح پر بھی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ محکمہ پشو پالن/بھیڑ پالن میں 6.80 کروڑ اور محکمہ باغبانی میں 1.92 کروڑ کی سبسڈی کو غلط طور پر کپٹل ہیڈ میں درج کیا گیا۔ جموں کشمیر ہارٹیکلچر پرموشن مارکیٹنگ کارپوریشن کی جانب سے اثاثوں کی تخلیق پر خرچ کیے گئے۔ 12.46 کروڑ کو بھی سرمایہ جاتی اخراجات میں شامل کیا گیا، حالانکہ یہ ایک سرکاری کمپنی ہے اور اس کے اثاثے حکومت کے اثاثے تصور نہیں کیے جا سکتے۔آڈٹ رپورٹ میں بجٹ مینجمنٹ کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ 8 نئی سکیموں کے لیے 69.12 کروڑ مختص کیے گئے، تاہم ان پر کوئی خرچ نہیں ہوا، جس سے یہ سکیمیں مکمل طور پر غیر فعال رہیں۔اسی طرح 123 سکیموں کے تحت 5,285.41 کروڑ کی رقم یا تو واپس کر دی گئی، یا دوبارہ مختص کی گئی، یا استعمال ہی نہیں کی جا سکی۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے، اخراجات کی درست درجہ بندی یقینی بنائی جائے اور سکیموں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔