ایجنسیز
دبئی//کویت نے ایران اور اس کے حامی گروہوں پر جمعرات کو ڈرون حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے، حالانکہ ایران جنگ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ ہے۔ ادھر سعودی عرب نے بھی کہا ہے کہ حالیہ حملوں میں مملکت کی ایک اہم آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے۔کویت کی وزارت خارجہ کے بیان، جسے سرکاری خبر رساں ادارے کونا نے جاری کیا، کے مطابق ڈرون حملوں نے جمعرات کی رات کویت کی کچھ اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس پیش رفت نے ہفتہ کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل جنگ بندی پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی نے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ حملے میں مملکت کی اہم ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ یہ پائپ لائن تیل کو بحیرہ احمر تک منتقل کرتی ہے اور آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتی ہے، جس پر ایران جنگ بندی کے باوجود اثر و رسوخ رکھتا ہے۔اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کے لیے ایک ممکنہ پیش رفت میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی اجازت دے دی ہے، جس کا مقصد ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات قائم کرنا ہے۔اسرائیل اور لبنان 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے عملی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ تاہم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ دونوں کے درمیان کوئی جنگ بندی نہیں ہے اور اسرائیل شمالی علاقوں میں سکیورٹی بحال ہونے تک حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔لبنان کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اطلاعات کے مطابق امریکہ کے محکمہ خارجہ میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں اسرائیل-لبنان مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ ممکنہ مذاکرات ایران جنگ میں جاری نازک جنگ بندی کو تقویت دے سکتے ہیں۔