ایجنسیز
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندرمودی نے جمعرات کو کہا کہ ویمن ریزرویشن ایکٹ میں مجوزہ ترامیم محض ایک قانون سازی نہیں بلکہ ملک بھر کی کروڑوں خواتین کی امنگوں کی عکاس ہیں، اور تمام اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس اقدام کی حمایت کے لیے متحد ہوں۔اپنی ویب سائٹ پر شائع ایک دستخط شدہ مضمون میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قدم اس اصول کی توثیق ہے جو صدیوں سے ہندوستانی تہذیب کی بنیاد رہا ہے کہ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب خواتین ترقی کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات اور آئندہ ریاستی اسمبلی انتخابات خواتین کے لیے ریزرویشن کے ساتھ منعقد ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ایک تاریخی موقع کے دہانے پر کھڑا ہے، جو جمہوریت کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنے اور برابری و شمولیت کے عزم کو دہرانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 16 اپریل کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ ایک اہم بل پر بحث اور منظوری دی جا سکے جو خواتین کے ریزرویشن کو آگے بڑھائے گا۔انہوں نے کہا، ’’اسے محض ایک قانون سازی کہنا کم ہوگا، یہ ہندوستان بھر کی کروڑوں خواتین کی خواہشات کی عکاسی ہے۔‘‘پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں توسیع کی گئی ہے اور 16 سے 18 اپریل تک تین روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ (ویمن ریزرویشن ایکٹ) میں ترامیم کر کے اسے 2029 کے عام انتخابات سے نافذ کرنے کی تجویز ہے۔اس کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھا کر 816 کی جائے گی، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی شق 2023 میں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی تھی، لیکن اس کا نفاذ مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل کے بعد ہونا تھا، جس کے باعث اس کے 2034 تک مؤخر ہونے کا امکان تھا اگر قانون میں تبدیلی نہ کی جاتی۔مجوزہ خاکے کے مطابق حلقہ بندی 2027 کی مردم شماری کے بجائے 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ ریاستی اسمبلیوں میں بھی اسی تناسب سے نشستیں مختص کی جائیں گی۔اپنے مضمون میں مودی نے کہا کہ خواتین ملک کی تقریباً نصف آبادی ہیں اور ان کی خدمات بے حد اہم ہیں، جبکہ آج خواتین ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا،’’سائنس و ٹیکنالوجی سے لے کر کاروبار، کھیل، مسلح افواج، موسیقی اور فنون تک خواتین بھارت کی ترقی میں پیش پیش ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم، صحت، مالی شمولیت اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں بہتری لائی گئی ہے۔تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ سیاست اور قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی ان کے معاشرتی کردار کے مطابق نہیں رہی۔مودی نے کہا کہ جب خواتین فیصلہ سازی میں شامل ہوتی ہیں تو وہ نئے تجربات اور بصیرت لاتی ہیں، جس سے حکمرانی کا معیار بہتر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی خواتین کو ان کا حق دینے کے لیے کئی کوششیں کی گئیں، کمیٹیاں بنیں اور بل پیش ہوئے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔انہوں نے یاد دلایا کہ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ‘ناری شکتی وندن ادھینیم’ کو اتفاق رائے سے منظور کیا تھا، جسے وہ اپنی زندگی کے اہم ترین لمحات میں سے ایک سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ آئین کی روح کے مطابق ہے، جس میں مساوات کو یقینی بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کی قانون ساز اداروں میں شمولیت کو بڑھانا اس وڑن کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم ہے اور یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ ہر شہری کو ملک کی تقدیر بنانے میں برابر کا حصہ ملے۔انہوں نے کہا، ’’یہ ایک ایسا لمحہ ہے جسے مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی نمائندگی میں تاخیر دراصل ہماری جمہوریت کی مضبوطی میں تاخیر ہے۔‘‘آخر میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ اس اہم اقدام کے لیے متحد ہوں۔انہوں نے کہا، ’’آئیں اس موقع کو ذمہ داری اور مقصد کے ساتھ اپنائیں اور اپنی جمہوری روایات کے مطابق عمل کریں۔‘‘