علاقے کو اُبھرتے ہوئے ایدونچر ٹوراِزم ہب کے طور پر فروغ دینے کی کوشش:جاوید رانا
جاوید اقبال
مینڈھر//وزیربرائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی اَمور نے دیرپاترقی اور ماحولیاتی تحفظ کی طرف ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے ضلع پونچھ کے مینڈھر اور سرنکوٹ علاقوں میں ایکو ٹوراِزم اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔محکمہ جنگلات و ماحولیات کی جانب سے شروع کئے گئے یہ اَقدامات حکومت کی اس مشترکہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد علاقے کی قدرتی خوبصورتی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ماحولیاتی توازن اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔اِس موقعہ پر محکمہ کے سینئراَفسران اور مقامی رہائشیوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو ان منصوبوں میں عوامی دلچسپی کا مظہر ہے۔اہم منصوبوں میں شاہستار میں ایکو پارک کی تعمیر شامل ہے جس کی تخمینی لاگت 90 لاکھ روپے ہے اور اسے ایس اے ایس سی آئی سکیم کے تحت بنایا جائے گا۔
اِس پارک کا تصور فطرت پر مبنی سیاحت کے مرکز کے طور پر کیا گیا ہے جو سیاحوں کو ماحولیاتی بیداری اور تحفظ کے طریقوں کو فروغ دینے کے ساتھ ایک عمیق تجربہ فراہم کرتا ہے۔فیلڈ آپریشنز کو مضبوط بنانے اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے کیمپا کے تحت 20لاکھ روپے کی لاگت سے شاہستار میں ایک اِنسپکشن ہٹ بھی تعمیر کیا جائے گا۔مزید برآں، پہاڑ مسجد میںکیپکس بجٹ کے تحت 35لاکھ روپے کی لاگت سے بلاک آفیسر کوارٹر تعمیر کیا جائے گا جس سے محکمہ جنگلات کی موجودگی مضبوط ہوگی اور عملے کے لئے بہتر رہائشی سہولیات فراہم ہوں گی۔وزیر موصوف نے ایکو ٹوراِزم کے بنیادی ڈھانچے کو مزید فروغ دینے کے لئے ایک ٹریکنگ روٹ کے قیام کا بھی سنگ بنیاد رکھا، جس کے ساتھ کیفے ٹیریا کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے پر کیپکس بجٹ کے تحت 6لاکھ روپے لاگت آئے گی۔توقع ہے کہ یہ منصوبہ مہم جوئی کے شوقین افراد کو متوجہ کرے گا اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔مجموعی طور پر 1.51کروڑ روپے کے یہ منصوبے ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی کو مربوط کرنے کے لئے ترتیب دئیے گئے ہیں۔
اِس موقعہ پر وزیر موصوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اَقدامات مقامی نوجوانوں کے لئے سیاحتی رہنما، مہمان نوازی کے شعبے اور دیگر خدمات میں دیرپا روزگار کے مواقع فراہم کریں گے جبکہ سیاحوں کی آمد میں اضافہ اور علاقائی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔اُنہوں نے کہاکہ یہ منصوبے ہمارے قدرتی وسائل کے تحفظ ، دیرپا سیاحت کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آبادی کے میعارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہمارے پختہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ جنگلات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے محکمے کے عملے کو بہتر سہولیات اور آپریشنل معاونت کے ذریعے تحفظِ ماحول کے کام مؤثر انداز میں انجام دینے میں مدد ملے گی۔اُنہوں نے طویل مدتی وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات مینڈھر اور سرنکوٹ کو جموں و کشمیر میں ایکو اور ایڈونچر ٹورازم کے اہم مراکز کے طور پر اُبھارنے میں مدد دیں گے جہاں سیاح قدرتی حسن اور حقیقی تجربات کے لیے آئیں گے۔جاوید رانا نے عمل آوری یجنسیوں کو تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقیی بنانے کی سخت ہدایات بھی جاری کیں۔ اُنہوں نے جوابدہی اور معیار پر زور دیتے ہوئے تکنیکی معیارات کی سختی سے عمل کرنے پر زوردیا اور تعمیراتی عمل یا مواد کے معیار میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کے خلاف خبردار کیا۔مقامی باشندوں اور دیگر شراکت داروں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ یہ منصوبے نہ صرف علاقے کی سیاحتی صلاحیت کو اُجاگر کریں گے بلکہ اس کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار اَدا کریں گے۔
پسماندہ علاقوں میں رابطہ فراہم کرنا حکومت کی اوّلین ترجیح
جاوید رانا نے زائداَز 3کروڑ روپے مالیت کے سڑک منصوبے شروع کئے
جاوید رانا نے زائداَز 3کروڑ روپے مالیت کے سڑک منصوبے شروع کئے
جاوید اقبال

مینڈھر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے مینڈھر میں سڑکوں کی ترقی کے متعدد منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھاجن کی مجموعی لاگت زائد اَز 3.19کروڑ روپے ہے۔یہ اَقدامات جموں و کشمیر کے سرحدی اور دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں جو حکومت کے آخری میل تک رابطہ یقینی بنانے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔اِس موقعہ پر وزیرموصوف نے خطاب کرتے ہوئے ان منصوبوں کو ایک انقلابی اقدام قرار دیاجس کا مقصد دیرینہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دور کرنا اور مینڈھر میں رسائی کو بہتر بنانا ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ دیرپا اور مضبوط سڑکوں کی تعمیر پسماندہ علاقوں کی سماجی و معاشی صلاحیت کو اُجاگر کرنے کے لئے نہایت اہم ہے۔ اِفتتاح کئے گئے بڑے منصوبوں میں مین روڈ این ایچ۔144اے کلر سے شادھرا شریف تک کملو گلی کے راستے سڑک کی تعمیر شامل ہے جو یو ٹی کیپٹل ایکس اخراجاتی بجٹ کے تحت ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کی جا رہی ہے۔اِس کے علاوہ ایم ایل اے حلقہ ترقیاتی فنڈ کے تحت آری ۔ سرہوتی سڑک کی اَپ گریڈیشن 50 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کی گئی ہے ۔وزیر نے آری۔سرہوتی سڑک کی مزید مضبوطی کے لئے بھی سنگ بنیاد رکھا جس میں 30لاکھ روپے کی لاگت سے گڑھوں کی مرمت پروگرام کے تحت میکڈیمائزیشن اور 40لاکھ روپے کی لاگت سے یو ٹی سیکٹر کے تحت مستقل بحالی شامل ہے۔ایک اور اہم پروجیکٹ میں مین روڈ سے حاجی پلو کے راستے دارہ ٹاپ تک سڑک کی میکڈمائزیشن شامل ہے جس کی تخمینہ لاگت 75لاکھ روپے سے سی اینڈ ٹی سکیم کے تحت شروع کی گئی ہے۔مزید برآں، مینڈھر میں مین روڈ سے شاہستار زیارت تک سڑک کی اَپ گریڈیشن جو سی ٹی ایم وی گرسائی کے تحت کی گئی، 24 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہو چکی ہے۔جاوید رانا نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ دُور دراز، سرحدی اور پسماندہ علاقوں میں رابطہ فراہم کرنا عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ناکافی سڑکوں کی وجہ سے کوئی بھی کمیونٹی الگ تھلگ نہیں رہنی چاہیے اور معیاری رابطہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، چاہے وہ کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔وزیر نے بتایا کہ حکومت سڑکوں کی ترقی کے لئے ایک جامع اور کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جس میں حلقہ ترقیاتی فنڈز، یو ٹی سیکٹر کی رقوم اور ہدفی مرمتی پروگرام شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس مربوط حکمت عملی کا مقصد ہر گاؤں، بستی اور سرحدی علاقے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے ذریعے جوڑنا ہے۔وزیرموصوف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بہتر سڑکیں معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت کے لئے محرک کا کام کرتی ہیں۔اُنہوں نے وضاحت کی کہ بہتر سڑکیں ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کو کم کرتی ہیں، مقامی پیداوار کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرتی ہیں اور پہلے نظرانداز شدہ علاقوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔وزیرجاوید رانا نے مزید کہا کہ بہتر رابطہ صحت، تعلیم اور اِنتظامی سہولیات تک آسان رسائی کو ممکن بناتا ہے جس سے معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے اور مقامی آبادی کو ترقی کے عمل میں زیادہ حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔اُنہوں نے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ تمام منصوبوں کی تکمیل میں معیار اور وقت کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔وزیرموصوف نے واضح کیا کہ تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر مرحلے پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے شفافیت اور جوابدہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ عمل درآمد کے دوران اعلیٰ طرز حکمرانی کو برقرار رکھا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ منصوبے روزمرہ آمد و رفت میں آسانی پیدا کریں گے، رابطے کو بہتر بنائیں گے اور علاقے کو درپیش دیرینہ مسائل میں نمایاں کمی لائیں گے۔مقامی باشندوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچہ مقامی کاروبار کو فروغ دے گا، تجارت کو سہارا دے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا جس سے مینڈھر میں دیرپا ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کو فروغ ملے گا۔