عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ،کانگریس ،میر واعظ ،آغا حسن ،اے پی آئی سمیت کئی سیاسی و مذہبی انجمنوں نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے نازک عالمی ماحول میں استحکام کی بحالی کی جانب ایک دانشمندانہ اور بروقت قدم قرار دیا۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ لڑائی کسی مسئلے کا حل نہ کبھی رہی ہے اور نہ کبھی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سمیت پورے ہندوستان کے لاکھوں لوگ عرب ممالک میں کام کرتے ہیں۔ ایسے میں بھارت کا کردار بھی اہم ہوگا اور وہ اس عمل میں تعاون کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اسرائیل بھی اس جنگ میں نقصان اٹھا رہا ہے، وہاں بھی تباہی کا منظر ہے۔ جنگ کے ذریعے اس تباہی کو کم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ سلسلہ ہمیشہ چل سکتا ہے۔اس جنگ بندی میں اصل میں انسانیت کی جیت ہوئی ہے۔ ‘انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط رہے ہیں اور ہمارا ملک ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تاہم، حالیہ پالیسی میں تبدیلی ایک غلط فیصلہ تھا۔
بھارت کے روس اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہیں، اور یہی متوازن خارجہ پالیسی وقت کی ضرورت ہے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ مسلم برادری امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پریشان تھی، لیکن ایران کے ردعمل کے بعد صورتحال بہتر ہوئی اور مذاکرات شروع ہوئے۔ انہوں نے کہا: *ایران نے امریکہ کو جھکنے پر مجبور کیا اور اسرائیل کو بھی مذاکرات پر لایا، یہ مسلمانوں کے لیے اچھا ہے۔محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا اور پورے خطے کو جنگ سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کردار بھارت کے خلاف نہیں ہے بلکہ امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھارت اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں گے۔جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا کہ جنگ بندی عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے احساس کی عکاسی کرتی ہے کہ پائیدار امن لمبے عرصے تک بڑھنے سے نہیں بن سکتا بلکہ متوازن مصروفیت سے جو خودمختاری کا احترام کرتا ہے، جائز خدشات کو تسلیم کرتا ہے اور وقار کا تحفظ کرتا ہے۔انہوں نے کہامیں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ بین الاقوامی برادری کو اب اس وقفے کو ایک قابل اعتماد اور منظم امن عمل میں تبدیل کرنا چاہیے، جہاں بات چیت عدم اعتماد کی جگہ لے، اور بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر استحکام کو آگے بڑھایا جائ۔میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Xپر کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان امن کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے تحمل اور مکالمہ، محاذ آرائی پر فوقیت رکھتے ہیں، اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شدید جارحیت کے باوجود ایرانی عوام اور قیادت نے جس حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدآغا سید حسن نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی محض ایک سفارتی وقفہ نہیں بلکہ استقامت، بصیرت اور اجتماعی قربانیوں سے عبارت ایک عظیم کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کے مقدس لہو کی برکت، رہبر معظم انقلاب اسلامی و سپہ سالار ملت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر معمولی بصیرت و حکمت عملی، مسلح افواج کی جرات و استقامت اور ایرانی عوام کی بے مثال شرکت کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا، “دنیا اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، جہاں حق و باطل کی ازلی کشمکش نے ایک بار پھر عالمی حالات کے دھارے کو متاثر کیا ہے۔ بظاہر یہ جنگ بندی ایک سفارتی پیش رفت دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پس منظر میں استقامت، حکمت اور قربانی کی ایک عظیم داستان پوشیدہ ہے۔” اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے “تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، دنیا نے حالیہ دنوں میں جو کچھ دیکھا ہے وہ صرف موت، تباہی اور خوف ہے۔ اس طرح کے تصادم سے صرف مصائب اور عدم استحکام کو مزید گہرا ہوتا ہے، بغیر کوئی حقیقی حل سامنے آتا ہے۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی طرف حتمی واپسی ثابت کرتی ہے کہ بامعنی حل صرف مشغولیت اور افہام و تفہیم سے ہی نکل سکتے ہیں۔