رمیش کیسر
راجوری//گزشتہ کئی روز سے علاقے میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ خاص طور پر کسان طبقہ اس صورتحال سے شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہے، کیونکہ بے موسمی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث گندم کی تیار فصل کو نقصان پہنچنے لگا ہے۔مقامی کسانوں کے مطابق مسلسل بارش اور تیز ہوا چلنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں گندم کی فصل زمین پر گر گئی ہے، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ موسم نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو زرعی پیداوار پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔کسانوں نے بتایا کہ گندم ان کی بنیادی فصل ہے جس پر ان کی روزی روٹی کا انحصار ہے، لیکن اس غیر متوقع موسم نے ان کے معاشی حالات کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کئی کسانوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیں اور متاثرہ کسانوں کے لیے امدادی اقدامات کریں۔ادھر بارشوں کے باعث علاقے میں سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عام لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ درجہ حرارت میں اچانک کمی کے باعث لوگ گرم کپڑوں کا دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ موسم کی یہ تبدیلی غیر متوقع ہے اور اس نے روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ زرعی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو نہ صرف گندم بلکہ دیگر فصلیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔عوام اور کسانوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے اور زرعی نقصانات کے ازالے کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ کسان طبقہ مزید نقصان سے بچ سکے۔
مغل روڈ پر مقررہ وقت کے دوران ٹریفک کی روانی جاری
بی آر اوکی کوششوں سے برف باری کے باوجود سڑک کھلی رہی
سمت بھارگو
راجوری//مغل روڈ پر مقررہ ٹائم کیپ کے دوران ٹریفک کی روانی بدستور جاری رہی، جس کے تحت صبح 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک دونوں اطراف سے ہلکی اور بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت کو اجازت دی گئی۔ اس دوران لائٹ موٹر وہیکلز اور ہیوی موٹر وہیکلزدونوں نے سڑک کو استعمال کیا۔ذرائع کے مطابق یہ روڈ عموماً شدید برف باری کے باعث بند رہتا ہے، تاہم اس بار بارڈر روڈ آرگنائزیشن کی مسلسل کوششوں کی بدولت تازہ برف باری کے باوجود اسے کسی حد تک قابلِ استعمال رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کو کھلا رکھنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر صفائی اور بحالی کا کام جاری ہے تاکہ مقامی لوگوں اور مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ضلع ٹریفک انسپکٹرراجوری منظور کوہلی نے بتایا کہ ٹریفک کو صرف مقررہ وقت کے اندر ہی چلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق صبح اور شام کے اوقات میں سڑک کے پھسلن دار ہونے کے خدشات کے پیش نظر ٹریفک کی آمد و رفت محدود رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسافروں اور ڈرائیوروں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ اوقات کی پابندی کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ٹریفک پولیس اور متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔مقامی لوگوں نے مغل روڈ کو کھلا رکھنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال کے باعث احتیاطی تدابیر انتہائی ضروری ہیں۔