یواین آئی
نئی دہلی/فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کے آغاز میں صرف 65 دن باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کون سی نئی ٹیم ’ڈیبیو‘ کر کے تاریخ رقم کرتی ہے ۔فیفا ورلڈ کپ کے اسٹیج پر قدم رکھنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے ، لیکن پہلی ہی بار میں دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دینا کسی معجزے سے کم نہیں۔ جہاں ٹورنامنٹ کے ابتدائی برسوں میں یوروگوئے 1930 اور اٹلی 1934نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں فاتح بن کر ایک ناقابلِ تسخیر معیار قائم کیا، وہیں جدید دور کے فٹ بال میں نئے آنے والوں کے لیے یہ سفر کسی ‘آگ کے دریا’ سے کم نہیں ہوتا۔ تاہم، فٹ بال کی تاریخ میں کچھ ایسی ٹیمیں گزری ہیں جنہوں نے روایتی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے اپنے پہلے ہی قدم سے عالمی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ پرتگال کا 1966 کا ڈیبیو یادگار ترین مہمات میں سے ایک ہے ۔ عظیم کھلاڑی یوسیبیو کی قیادت میں پرتگال نے دفاعی چیمپیئن برازیل کو 3-1 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔ کوارٹر فائنل میں شمالی کوریا کے خلاف 3-0 کے خسارے کے بعد یوسیبیو کے چار گولز کی بدولت 5-3 سے فتح حاصل کرنا آج بھی ایک داستانِ پارینہ ہے ۔
پرتگال نے اس ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یوگوسلاویہ سے آزادی کے بعد کروشیا نے 1998 میں اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں دھوم مچا دی۔ گولڈن جنریشن نے کوارٹر فائنل میں جرمنی کو 3-0 سے شکست دے کر سب کو دنگ کر دیا۔ ڈیور سوکر نے گولڈن بوٹ جیتا اور کروشیا نے ہالینڈ کو ہرا کر تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔ سینیگال نے 2002 کے افتتاحی میچ میں دفاعی چیمپیئن فرانس کو 1-0 سے ہرا کر فٹ بال کی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا۔ کوچ برونو میتسو کی نگرانی میں سینیگال کوارٹر فائنل تک پہنچنے والی دوسری افریقی ٹیم بنی۔ الجزائر 1982 ‘خوبصورت کھیل’ اور ناانصافی 1982 کے فیفا ورلڈ کپ میں الجزائر کی پہلی شرکت شاندار کارکردگی اور ناانصافی دونوں کی داستان بن گئی۔ انہوں نے دفاعی چیمپئن مغربی جرمنی کو 2-1 سے شکست دے کر دنیا کو حیران کر دیا، جس میں رابح ماجر اور لخضر بلومی نے گول کیے ۔اگرچہ الجزائر کو آسٹریا کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے چلی کو 3-2 سے ہرا کر دوسرے مرحلے تک رسائی کی امید برقرار رکھی۔ لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ مغربی جرمنی اور آسٹریا کے درمیان ایک متنازع میچ کھیلا گیا جس کا نتیجہ دونوں ٹیموں کے حق میں طے شدہ محسوس ہوا، اور اسی باعث الجزائر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔مغربی جرمنی کی 1-0 کی جیت کو بعد میں “ڈسگریس آف جیخون” کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ اس اسکینڈل کے بعد فیفا کو اپنے قوانین میں تبدیلی کرنا پڑی، اور آئندہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گروپ مرحلے کے آخری میچز بیک وقت کروانے کا اصول نافذ کیا گیا، تاکہ اس طرح کی ناانصافی دوبارہ نہ ہو سکے ۔شمالی کوریا 1966 اٹلی کو 1-0 سے ہرا کر ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے والی پہلی ایشیائی ٹیم بنی۔ نائجیریا 1994اپنی برق رفتار فٹ بال سے ارجنٹائن والے گروپ میں ٹاپ کیا اور راشد یکینی کا گول کے بعد جشن یادگار بن گیا۔ سعودی عرب 1994سعید الاویران کا بیلجیئم کے خلاف ’میراڈونا اسٹائل‘ گول، جو آج بھی ورلڈ کپ کی تاریخ کے بہترین انفرادی گولز میں شمار ہوتا ہے ۔ 1994 کے فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب کی پہلی شرکت ایک ناقابلِ فراموش لمحے سے عبارت ہے ، جب سعید العویران نے بیلجیم کے خلاف ایک شاندار انفرادی گول کر کے تاریخ رقم کی۔ اپنے ہی ہاف سے گیند لے کر برق رفتاری سے آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے دفاعی کھلاڑیوں کو چکما دیا اور گیند کو جال کی راہ دکھائی-یہ گول آج بھی ورلڈ کپ کے عظیم ترین گولز میں شمار ہوتا ہے ۔اس فتح نے سعودی عرب کو راؤنڈ آف 16 تک رسائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹیم نے مراکش کو بھی شکست دی اور گروپ میں بیلجیم سے آگے رہی۔ اگرچہ ناک آؤٹ مرحلے میں سویڈن کے ہاتھوں 3-1 سے شکست ہوئی، مگر سعودی عرب نے اپنی جاندار کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط حریف ہے ۔ اس طرح وہ مراکش 1986کے بعد گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے والی دوسری عرب ٹیم بن گئی۔کوسٹا ریکا 1990 برازیل، سویڈن اور اسکاٹ لینڈ جیسے گروپ سے نکل کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی۔ گھانا 2006 کے ورلڈ کپ میں گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے والی واحد افریقی ٹیم رہی۔