مسلم
موجودہ جدید زمانے کی عالمی سیاست کا جب گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ جدید دور کی زیادہ تر جنگیں نظریات کے بجائے وسائل، خصوصاً تیل اور توانائی کے ذخائر کے گرد گھومتی ہیں۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر ہوں یا ایران پر دہائیوں سے عائد اقتصادی پابندیاں، ان معاملات میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مرکز ہمیشہ توانائی اور عالمی منڈی پر کنٹرول رہا ہے۔ ایران کو جوہری پروگرام کے نام پر عالمی دباؤ میں رکھا گیا، مگر اصل مسئلہ اس کی علاقائی خودمختاری اور آزاد توانائی پالیسی تھی۔
اسی تناظر میں اسرائیل اور فلسطین، خصوصاً غزہ کے درمیان جاری جنگ کو بھی محض ایک علاقائی تنازع قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ کی غیر مشروط اسرائیلی حمایت دراصل مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اسٹریٹجک مفادات، اسلحہ کی صنعت اور توانائی کے راستوں کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں فلسطینیوں کی جانیں عالمی طاقتوں کے نزدیک ایک اخلاقی مسئلے کے بجائے ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ظاہر ہے کہ مسلم دنیا کے اتحاد کا تصور جتنا دلکش اور ولولہ انگیز ہے، عملی دنیا میں اتنا ہی پیچیدہ اور سوالات سے گھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ستاون سے زائد مسلم ممالک، مشترکہ مذہب اور تہذیبی وراثت کے باوجود آج بھی عالمی سیاست میں ایک مؤثر اور متحد قوت کے طور پر اُبھرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس دعوے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ مسلم دنیا واقعی کسی مشترکہ سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
جبکہ مسلم دنیا تیل، گیس اور معدنی وسائل کی سب سے بڑی مالک ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں بہت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ داخلی اختلافات، فرقہ واریت، علاقائی رقابتیں اور اقتدار کی سیاست ہیں، جنہوں نے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کا فطری حلیف بننے کے بجائے سیاسی حریف بنا دیا ہے۔ یہی تقسیم انہیں عالمی طاقتوں کے سامنے کمزور بناتی ہے۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم دنیا عالمی مالیاتی نظام میں مضبوط مقام حاصل نہیں کر سکی۔ سلامتی، ٹیکنالوجی اور کرنسی کے لیے مغرب پر انحصار نے اِن کی سیاسی خودمختاری کو محدود کر دیا ہے اور جب معاشی فیصلے آزاد نہ ہوں تو اتحاد کے دعوے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے امتِ واحدہ کا جو تصور پیش کیا تھا، اُس کی بنیاد اخوت، عدل اور اجتماعی ذمہ داری پر تھی۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں یہ تصور محض نظریہ نہیں بلکہ عملی حقیقت تھا۔ مگر خلافت کے زوال، نوآبادیاتی نظام کے غلبے اور جدید قومی ریاستوں کے قیام نے مسلم دُنیا کو سرحدوں اور مفادات میں تقسیم کر دیا۔ رفتہ رفتہ امت کا تصور کمزور پڑ گیا اور ریاستی مفاد، اقتدار اور معاشی بقا ترجیحات میں سرفہرست آ گئے۔تعلیم، تحقیق اور سائنسی ترقی کے میدان میں پسماندگی بڑھتی چلی گئی۔ دنیا کی بڑی جامعات اور تحقیقی مراکز مسلم دنیا سے باہر ہیں، جس کے باعث مسلم ممالک عالمی سیاست میں فیصلہ سازی کے بجائے محض ردِعمل تک محدود ہو کر رہ گئے ہیںاور دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر مشتمل یہ اُمت عالمی فیصلوں میں کوئی خاص اثرنہیں رکھتی ہے؟کیونکہ مسلم ممالک کے درمیان باہمی اتحاد کا تصور محض نعروں اور اعلامیوں تک محدود ہو چکا ہے؟اگر مسلم ممالک آپس میںتجارت، تعلیم، دفاع اور خارجہ پالیسی کے چند بنیادی نکات پر اتفاق کر لیں تو ایک مؤثر عالمی بلاک کا قیام ممکن ہے۔
اصل مسئلہ نیت، قیادت اور ترجیحات کا ہے۔ اتحاد کا مطلب ایک ریاست بن جانا نہیں بلکہ کم از کم یہ ہونا چاہیے کہ کسی ایک خطے میں ظلم ہو تو پوری مسلم دنیا ایک آواز اور ایک مؤقف کے ساتھ کھڑی نظر آئے۔ موجودہ عالمی حالات میں مسلم دنیا کا اتحاد ایک شدید ضرورت ہے، مگر ابھی تک ایک عملی حقیقت نہیں بن سکا۔ جب تک ذاتی اقتدار، وقتی مفاد اور بیرونی دباؤ امت کے اجتماعی مفاد پر غالب رہیں گے، مسلم اتحاد ایک خواب ہی رہے گااور اگر خود احتسابی، فکری بیداری اور مشترکہ وژن پیدا ہو جائے تو یہی خواب حقیقت بن سکتا ہے۔