عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/دو مرحلوں پر مشتمل بجٹ اجلاس اختتام پزیر ہونے کیساتھ ہی جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو ہفتہ کے روز غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
اجلاس کا آغاز 2 فروری کو جموں میں ہوا تھا اور 20 فروری تک جاری رہا، جس کے بعد ایوان کو رمضان اور عید کی تعطیلات کے لیے ملتوی کیا گیا۔ اجلاس 27 مارچ کو دوبارہ شروع ہوا، جہاں بجٹ کی منظوری اور قانون سازی کا عمل مکمل کیا گیا اور 4 اپریل کو اختتام پذیر ہوا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بتایا کہ اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 22 نشستیں ہوئیں، جبکہ ایوان نے کل 11 گھنٹے اور 36 منٹ تک کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ سرکاری بل پیش کیے گئے اور تمام منظور ہوئے۔ مزید برآں 25 دستاویزات ایوان میں پیش کی گئیں۔ نجی ارکان کے کاروبار کے تحت 39 بل موصول ہوئے، جن میں سے 36 منظور، تین مسترد جبکہ دو پیش کیے گئے۔
سوالات کے حوالے سے اسپیکر نے بتایا کہ کل 1379 سوالات فہرست میں شامل کیے گئے، جن میں سے 144 مسترد، دو واپس لیے گئے اور تین فہرست میں شامل نہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ 110 توجہ دلاؤ نوٹس بھی موصول ہوئے۔
قراردادوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 138 قراردادیں موصول ہوئیں، جن میں سے 27 مسترد، 14 فہرست میں شامل، اور چار زیر غور لائی گئیں، جن میں سے دو پر بحث ہوئی۔ مزید یہ کہ 2231 کٹ موشنز موصول ہوئیں، جن میں سے 2059 منظور کی گئیں۔
اسپیکر نے اجلاس میں شرکت پر اراکین اور وزراء کا شکریہ ادا کیا، جبکہ وزیر اعلیٰ کے کردار اور ایوان میں ان کی موجودگی کو بھی سراہا۔
انہوں نے چیف سیکریٹری، انتظامی سیکریٹریز، میڈیا بشمول ریڈیو، دوردرشن، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، محکمہ داخلہ، پولیس اور اسمبلی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اجلاس کو خوش اسلوبی سے چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بجٹ اجلاس اختتام پزیر،اسمبلی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی