ایجنسیز
ملبورن/ساؤتھ آسٹریلیا نے شیفیلڈ شیلڈ کی تاریخ کا ایک یادگار الٹ پھیر کرتے ہوئے مسلسل دوسرے سال ٹرافی اپنے نام کر لی ہے ۔ سیزن کی سب سے مضبوط ٹیم مانی جانے والی وکٹوریہ کی ٹیم ‘جنکشن اوول’ میں کھیل کے پانچویں دن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور محض 139 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔وکٹوریہ کو جیت کے لیے 196 رنز کا ہدف ملا تھا، لیکن دفاعی چیمپئن ساؤتھ آسٹریلیا (ایس اے ) نے انہیں 56 رنز سے شکست دے کر اپنی 133 سالہ تاریخ میں پہلی بار مسلسل دو بار چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ہنری تھورنٹن نے فرگس او نیل کو کلین بولڈ کر کے جیت پر مہر لگائی، جس کے بعد ساؤتھ آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے میدان میں جشن منایا۔
اس جیت کے اصل ہیرو ایلکس کیری اور نیتھن میک اینڈریو رہے ۔ ایک وقت میں ساؤتھ آسٹریلیا کی سات وکٹیں گر چکی تھیں اور ان کی برتری صرف 59 رنز کی تھی، لیکن کیری کی شاندار سنچری (103) اور میک اینڈریو کے اہم 60 رنز نے آٹھویں وکٹ کے لیے 105 رنز جوڑ کر میچ کا رخ بدل دیا۔ میک اینڈریو کو میچ میں 6 وکٹیں لینے اور اہم اننگز کھیلنے پر ‘پلیئر آف دی فائنل’ قرار دیا گیا۔ وکٹوریہ کی ٹیم چوتھے دن کے اختتام پر ہی دباؤ میں آ گئی تھی جب پیٹر ہینڈزکومب اور مارکس ہیرس جیسے تجربہ کار بلے باز آؤٹ ہو گئے ۔ پانچویں دن کے پہلے 15 منٹ میں ہی مچ پیری اور ٹوڈ مرفی پویلین لوٹ گئے ۔ کپتان ول سدرلینڈ نے میچ کے بعد اعتراف کیا کہ کیری اور میک اینڈریو کی شراکت داری فیصلہ کن ثابت ہوئی اور ان سے کیچ چھوٹنا مہنگا پڑا۔ ساؤتھ آسٹریلیا کے کپتان نیتھن میک سوینی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، “ایک وقت میں ہم بہت گھبرا گئے تھے کہ میچ ہاتھ سے نکل گیا ہے ، لیکن ایلکس کیری اور میک اینڈریو نے کریز پر وقت گزار کر ہمیں لڑنے کے لیے ایک اچھا ہدف فراہم کیا۔ ہمارے تیز گیند بازوں نے پورے سال بہترین کارکردگی دکھائی ہے اور آج بھی انہوں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا۔”پچھلے دس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مہمان ٹیم نے شیفیلڈ شیلڈ کا فائنل جیتا ہے ۔ ساؤتھ آسٹریلیا کی اس تاریخی فتح نے آسٹریلوی ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ثابت کر دیا ہے ۔