بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں ٹریفک نظام بڑھتے دباؤ، عملے کی کمی اور سڑک حادثات میں اضافے جیسے سنگین چیلنجوں سے دوچار ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران 6 ہزار سے زائد حادثات اور ایک لاکھ سے زیادہ زیر التوا چالان سامنے آئے ہیں۔ٹریفک نظام سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن میں چالانوں کی بڑی تعداد، کروڑوں روپے کی وصولی، بڑھتے حادثات اور عملے کی کمی جیسے معاملات نمایاں ہوئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق سال 2025 میں سب سے زیادہ 6,24,168 گاڑیوں کے چالان کئے گئے جبکہ اس وقت 1,04,815 ٹریفک چالان مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جو قانونی نظام پر بڑھتے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں 1,41,249 گاڑیوں کا چالان کیا گیا جس سے تقریباً 7.78 کروڑ روپے وصول ہوئے، جبکہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر 2,61,092 اور 2023 میں 3,32,221 تک پہنچ گئی۔ سال 2024 میں 4,45,748 گاڑیوں کے چالان کئے گئے جبکہ 2025 میں یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔حادثات کے اعداد و شمار بھی تشویشناک رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ سال 2020 میں 974 حادثات میں 92 اموات ہوئیں، جبکہ 2021 میں حادثات 1038 اور اموات 107 ہو گئیں۔ سال 2023 میں اموات کی تعداد 252 تک پہنچ گئی جبکہ 2025 میں 768 حادثات میں 172 افراد جاں بحق ہوئے۔ٹریفک پولیس کے عملے کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2020 میں 324 اہلکار تعینات تھے جو 2025 میں کم ہو کر 276 رہ گئے، جبکہ مختلف برسوں میں متعدد اہلکار ریٹائر بھی ہوئے، جس سے عملے کی کمی برقرار رہی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے، جن میں ناکوں اور چیکنگ پوائنٹس کا قیام، ٹریفک سگنلوں کی تنصیب، سڑکوں کی نشاندہی، آگاہی مہمات اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔محکمہ کے پاس مجموعی طور پر 112 گاڑیاں دستیاب ہیں جن میں 22 کرینیں شامل ہیں، جبکہ روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی مہمات تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر جاری ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس وقت ٹریفک پولیس میں 271 پولیس افسران و اہلکار دستیاب ہیں، تاہم عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے دیگر یونٹوں سے عارضی طور پر نفری تعینات کی جاتی ہے تاکہ ٹریفک کے نظام کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔بجٹ کے حوالے سے دستیاب تفصیلات کے مطابق 2020-21میں محکمہ ٹریفک کو 84.66 لاکھ روپے، 2021-22میں 69.63 لاکھ، 2022-23میں 72 لاکھ اور 2023-24میں 102 لاکھ روپے فراہم کئے گئے، جبکہ یکم اپریل 2024 سے 31 دسمبر 2025 تک 61 لاکھ روپے مختص کئے گئے۔ اس کے علاوہ 2022-23کے دوران سیول ایکشن پروگرام کے تحت 0.40 لاکھ روپے بھی فراہم کئے گئے۔