نظم
نرالی سی ادا دے کر میرا دلدار بھیجا ہے
خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسا پیار بھیجا ہے
سدا اس کی نمازوں میں میری خاطر دعا پاؤں
بہت میٹھی بہت آساں کہ اردو سی ادا پاؤں
بنا جب سے میرا سایہ پرے مجھ سے بلا پاؤں
امر ہے پیار دونوں کا پہاڑوں میں صدا پاؤں
یہ کس نے ریگزاروں میں گل و گلزار بھیجا ہے
خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسا پیار بھیجا ہے
وہ شاعر کی غزل، جیسے بہت نازک کنول جیسے
کسی وادی کے بل، جیسے میری الجھن کا حل جیسے
مشقت کا ہے پھل جیسے ،سرابِ جاں میں جل جیسے
ولرؔ سی روح ہے اس کی کہ دل اس کا ہے ڈلؔ جیسے
جدا سب سے زمانے میں میرا یہ یار بھیجا ہے
خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسا پیار بھیجا ہے
ادا کیا اے میرے مالک پسند آئی بتا مجھ کو ؟
سنو محروم رکھتی تھی خوشی سے ہر خطا مجھ کو
وجہ کیا ہے جو نعمت یہ ہوئی یا رب عطا مجھ کو ؟
ذرا اسرار بخشش کا میرے داتا جتا مجھ کو
سکونِ دل کو بھیجا ہے میرا سنسار بھیجا ہے
خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسا پیار بھیجا ہے
پھرائے ہاتھ بالوں میں شفقت سے ،محبت سے
میرے چہرے کو تکتا ہے وہ اُلفت سے عقیدت سے
لٹائے پیار وہ مجھ پر، بھرے دامن سخاوت سے
میرا جھلسا بدن چومے وہ پلکوں کی تراوت سے
بہت پیارا بڑا اچھا میرا غم خوار بھیجا ہے
خدا کا شکر کرتا ہوں کہ ایسا پیار بھیجا ہے
فلکؔ ریاض
حسینی کالونی چھترگام بڈگام کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109
تابندہ ستارہ ڈوب گیا
دنیا کے اس شور و فتن میں
ہم سے وہ مہرباں بچھڑ گئے
جن کی ذات تیغِ عیاں تھی۔
وہ قائیدِ محبوب، وہ راہبر
ہم سے جدا ہوئے تو یوں لگا
جیسے زمانے بھر کے دلوں سے
اک نور کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
سادہ تھی ان کی زندگی، زہد تھا ان کا شیوہ
ہزاروں دلوں کو انہوں نے نئے زاویئے دیئے
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی نسلوں کو
امید کے چراغ تھما دیئے۔
آج ہر اک دل ہے غم سے نڈھال
ہر سوگوار چہرہ، ہر اشک بار آنکھ
گلیوں سے نکلتے جلوسوں کی آوازیں
فضاؤں میں گونج رہی ہیں
“وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی صدائیں
ہم میں زندہ ہیں”۔
امن تھا، سکون تھا، مگر
ان کے بعد یوں لگتا ہے
جیسے دنیا جنگ کی آگ میں گھِر گئی
یا جیسے زمانے بھر کے دلوں سے
محبت نکل گئی۔
مگر ان کی تعلیمات کا نور
دلوں میں ہمیشہ رہے گا
ان کا پیغامِ حریت
ہر نسل کو راستہ دکھاتا رہے گا۔
بلال احمد صوفی
خوشی پورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛6006012310