امتیاز خان
ہوائی اڈے کی سیڑھیوں سے اترتے ہی ندیم کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔ وہ آواز نہیں بلکہ ایک ایسا تیر تھا جو سیدھا دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ یہ کسی بڑے طوفان کا عندیہ تھا، ایک ایسا صدمہ جس کا مرہم شاید دنیا کے کسی طبیب کے پاس نہ تھا۔ وہ آواز آج بھی ندیم کے وجود کو کرید رہی ہے۔
ندیم خاموش کھڑا ماضی کی گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ اسے ارسلان یاد آ رہا تھا،وہ ارسلان جس کے ساتھ ہنسنا، کھیلنا اور روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی خبر گیری زندگی کا معمول تھا۔ لیکن آج وہ اس کے سامنے ساکت کھڑا تھا اور چاروں طرف ایسی خاموشی تھی جیسے کسی پرانے قبرستان کا سناٹا ہو۔ ایک ان کہی پکار فضا میں معلق تھی کہ شاید یہ آواز اب کبھی دوبارہ سننے کو نہ ملے۔پچھلے کچھ مہینے ارسلان کے لیے کسی بھول بھلیاں سے کم نہ تھے۔ زندگی کی رنگینوں اور معمولی خوشیوں کے درمیان وہ اچانک غم کے کسی اتھاہ سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ وہ شخص، جس کی ہنسی محفلوں کی جان ہوا کرتی تھی، اب اپنی ہی دنیا میں گم ہو چکا تھا۔
دل پر پتھر رکھ کرندیم اورارسلان کے عزیزواقارب ہوائی اڈے سے نکلے اور شہر کے ایک بڑے شفا خانے کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں اسے ارسلان کی وہ آخری خواہش یاد آئی”وہی چائے کی چسکیاں”۔ مگر جب قسمت نے ہاتھ ملنے پر ہی تہیہ کر لیا ہو، تو وہ ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کی مہلت کہاں دیتی ہے؟ہسپتال پہنچے تو وہاں ایک عجیب افراتفری تھی۔ لوگ بھاگم دوڑ میں تھے؛ کوئی دوا لئے دوڑ رہا تھا، کوئی تھکا ہارا کھانے کی چیزیں لیے چل رہا تھا۔ ان کے چہروں کی زردی اور مایوسی بتا رہی تھی کہ وہ لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں۔
ہسپتال کی راہداری میں ندیم کا سامنا سفید کوٹ پہنے ایک ڈاکٹر صاحب سے ہوا، جن کے چہرے پر تھکن اور سنجیدگی کے گہرے سائے تھے۔ ندیم نے آگے بڑھ کر ان کا راستہ روکا اورپوچھا ’ڈاکٹر صاحب! کیا وہ اب بھی ویسے ہی ہے؟ کیا اس کے ذہن کی کھڑکی کبھی کھلے گی؟ڈاکٹرنے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا’ ہم فقط کوشش کرسکتے ہیں ،شفا دینے والا فقط اللہ ہے‘۔مگر ڈاکٹر صاحب، وہ تو ہر دوسری بات پر قہقہہ لگانے والا انسان تھا۔ اس کی خاموشی مجھے مار دے گی۔ڈاکٹرنے ندیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے’کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے بڑی چیخ ہوتی ہے۔ آپ بس اس کے پاس بیٹھیں، اسے محسوس کروائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے‘۔ندیم قریب گیا، مگر ارسلان کی روح جیسے اس کمرے سے کوسوں دور کسی جزیرے پر تھی۔شاید سب سے بڑی محبت یہ ہے کہ خاموشی میں ساتھ بیٹھنا اور بس موجود ہونا، جب کوئی خود سے لڑ رہا ہو۔
دن گزرتے گئے۔ ندیم روزانہ ارسلان کو اسی حال میں دیکھتا۔ کبھی وہ کھڑکی کے پاس رکتا، کبھی یادوں کی دھول جھاڑتا۔ندیم وارڈ کے اندر داخل ہوا۔ ارسلان ہمیشہ کی طرح کھڑکی سے باہر کسی نادیدہ نقطے کو گھور رہا تھا۔ندیم اس کے بالکل قریب جا کر بیٹھ گیا۔ارسلان نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا’’ندیم۔۔۔ کیا وقت رک گیا ہے؟ یا یہ سوئی میرے دل کے اندر چل رہی ہے؟ یہ مہینوں بعد ارسلان کے درد بھرے الفاظ تھے۔وقت نہیں رکا میرے دوست، بس ہم ذرا پیچھے رہ گئے تھے۔ تم کھڑکی سے باہر کیا تلاش کرتے ہو؟ارسلان ایک طویل خاموشی کے بعد’میں اپنی وہ ہنسی ڈھونڈ رہا ہوں جو اس دن ہوائی اڈے کے شور میں کہیں کھو گئی تھی۔ مجھے ڈر ہے ندیم، کہ اگر میں نے یہ ٹک ٹکی چھوڑ دی، تو وہ یادیں بھی ریت کی طرح ہاتھ سے نکل جائیں گی‘۔ندیم نے آنسو پر قابو پاتے ہوئے ارسلان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا’’یار یادیں ریت نہیں ہوتیں، وہ جڑیں ہوتی ہیں اور جڑیں کبھی ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ تم واپس آئو، ہم مل کر وہ ہنسی ڈھونڈیں گے‘‘۔
وارڈ کی فضا اس روز غیر معمولی طور پر بوجھل تھی۔ سورج کی زرد روشنی کھڑکی کے شیشوں سے چھن کر ارسلان کے بستر پر پڑ رہی تھی، جیسے اسے الوداع کہنے آئی ہو۔ندیم ہمیشہ کی طرح اس کے پاس بیٹھا تھا، مگر آج ارسلان کی نظریں اس دور دراز کے نادیدہ نقطے پر نہیں تھیں، بلکہ وہ ندیم کے چہرے کو ایک عجیب سے سکون اور شناسائی سے دیکھ رہا تھا۔ارسلان کے ہاتھ میں وہ ’ٹک ٹکی‘ اب بھی موجود تھی، مگر اس کی حرکت مدھم پڑتی جا رہی تھی۔ندیم نے ارسلان کا سرد ہاتھ تھامتے ہوئے کہا’دیکھو آج باہر کتنا اجالا ہے۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں تم جلد گھر چلو گے۔ ہم پھر سے وہی پرانی محفلیں سجائیں گے، وہی چائے کی چسکیاں لیں گے‘۔ارسلان کے لبوں پر ایک ہلکی سی، تقریباً نا محسوس مسکراہٹ آئی وہی پرانی زندہ دلی کی ایک آخری جھلک۔ اس نے بہت مشکل سے اپنی آواز مجتمع کی۔نہایت کمزور آواز میں’دوست ۔۔۔ وہ چائے اب ادھار رہی۔ دیکھو، وہ ہوائی اڈے والی آواز اب قریب آتی جا رہی ہے۔ وہ طوفان اب تھم رہا ہے‘۔ندیم گھبرا کر’نہیں ارسلان! ابھی نہیں۔۔۔ ابھی تو بہت سی باتیں باقی ہیں۔ تم نے کہا تھا نا کہ ہم مل کر وہ کھوئی ہوئی ہنسی ڈھونڈیں گے؟ارسلان نے اپنی آنکھیں آہستہ سے موند لیں۔ اس کے ہاتھ کی گرفت ندیم کے ہاتھ پر ڈھیلی پڑ گئی۔ اچانک، وہ’ٹک ٹکی‘ جو مہینوں سے ارسلان کے ہاتھوں میں وقت کے ساکت ہونے کا نوحہ پڑھ رہی تھی، فرش پر گر گئی۔’ٹک۔۔۔‘فرش پر گرنے کی وہ آواز پورے وارڈ میں گونجی اور پھر خاموشی چھا گئی۔ وہ خاموشی جو ہسپتال کے شور سے زیادہ ہولناک تھی۔ ندیم نے تڑپ کر ارسلان کے سینے پر ہاتھ رکھا، مگر وہاں اب کوئی ارتعاش نہ تھا۔ وہ شیر دل انسان، جو زندگی کی بھول بھلیوں میں گم ہو گیا تھا، اب ہمیشہ کیلئے اس خاموش کھڑکی سے پار کسی ایسی دنیا میں چلا گیا تھا جہاں کوئی دکھ، کوئی طوفان اور کوئی ہسپتال نہیں ہوتا۔باہر راہداری میں کسی کے بھاگنے کے قدموں کی آواز آئی، مگرندیم وہیں ساکت بیٹھا اس ’ٹک ٹکی‘ کو دیکھ رہا تھا جو اب بالکل خاموش ہو چکی تھی۔ ہوائی اڈے پر سنائی دینے والی وہ پہلی آواز آج اپنا مقصد پورا کر چکی تھی۔ ندیم کو اب سمجھ آیا کہ کبھی کبھی خاموشی میں ساتھ بیٹھنا ہی آخری تحفہ ہوتا ہے جو ہم کسی کو دے سکتے ہیں۔ہوائی اڈے کی وہ چیخ اور ٹک ٹکی کی وہ بے رحم آواز اب محض ایک یاد بن چکی تھی ایک ایسی یاد، جو جینا سکھاتی ہے۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7006029581