عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ کشمیر نے جمعرات کو سری نگر اور بڈگام کے اضلاع میں 3 مختلف مقامات پر پولیس اسٹیشن اکنامک آفنس ونگ، سری نگر میں درج ایف آئی آر نمبر11/2026 زیر دفعہ 420، 467، 468، 471، 120Bجس کوآئی پی ایکٹ کے سیکشن 66-Dکیساتھ پڑھاجاتاہے ، کے سلسلے میں چھاپے ڈالے اور مشتبہ مقامات کی تلاشی لی۔ونگ نے ایک بیان میں کہاکہ یہ مقدمہ میسرز سنجے ٹریڈنگ کمپنی، نجف گڑھ، نئی دہلی کی طرف سے اپنے مالک سنجے کمار ساہو کے ذریعے جمع کرائی گئی تحریری شکایت کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔
شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ عماد مظفر مکدومی عرف عمران شاہ ولد مظفر اقبال مقدومی، رہائشی مکان نمبر09، بسم اللہ کالونی پیر باغ، سرینگر، اور وقار احمد بٹ ولد غلام احمد بٹ ساکنہ ایل ڈی کالونی نزدیک فائر اینڈ ایمرجنسی سنت نگر نے کووڈ19 وبائی امراض کے دوران سامان حاصل کرنے کیلئے سرینگر میں میڈیکل فرم کو غیر قانونی طور پر پیش کیا۔ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین نے دھوکہ دہی کے ذریعے بھاری رقم حاصل کی جس میں ڈپٹی کمشنر اننت ناگ کے دفتر سے فنڈز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر سے بھی کروڑوں روپے ہتھیانے کی کوشش کی۔ملزمان نے خودکو سرکاری افسروں کے سامنے ڈیلی گیٹس اور او ایس ڈی (سپلائیز) ظاہر کرتے ہوئے مختلف محکموں اور اداروں کے جعلی الاٹمنٹ آرڈر جاری کئے۔ انہوں نے مزید شکایت کنندہ فرم کی جعلی ای میل آئی ڈی بنائی اور ادائیگیوں کو موڑنے کے لیے اس کے نام پر جعلی بینک اکاؤنٹس کھولے۔ان نتائج کی بنیاد پر باضابطہ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ آج گھر کی تلاشی کا مقصد ڈیجیٹل ریکارڈ اور مالیاتی دستاویزات سمیت مزید شواہد حاصل کرنا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اقتصادی جرائم ونگ کشمیر کے ترجمان نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ (ایجنسیاں)