شکایت کی سماعت کیلئے ضلعی شکایتی کمیٹیاں تشکیل
نئی دہلی//الیکشن کمیشن نے آسام اور کیرالہ سمیت چار ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پڈوچیری کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور کچھ دیگر ریاستوں کے ضمنی انتخابات کو دولت اور لالچ کے اثرات سے پاک رکھنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 409 کروڑ روپے کی نقدی، قیمتی دھاتیں، شراب اور ووٹرز کو لبھانے والا سامان ضبط کیا ہے۔آسام، کیرالہ اور پڈوچیری اسمبلی کے انتخابات پہلے مرحلے میں 9 اپریل کو کرائے جائیں گے۔ اسی دن چار ریاستوں کی چھ خالی اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات بھی ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق، گزشتہ 26 فروری کو ‘الیکٹرانک سیزر مینجمنٹ سسٹم (ای ایس ایم ایس ) کے آغاز سے لے کر 25 مارچ تک 408.82 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی غیر قانونی اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔ ان میں 17.44 کروڑ روپے نقد، 37.68 کروڑ روپے کی شراب (16.3 لاکھ لیٹر)، 167.38 کروڑ روپے کی منشیات، 23 کروڑ روپے کی قیمتی دھاتیں اور 163.30 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے دیگر مفت تحائف شامل ہیں۔
کمیشن نے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی متعدد ایجنسیوں کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسی کارروائیوں میں تلاشی اور معائنے کے دوران عام شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی یا ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں کسی بھی شکایت کی سماعت کے لیے ضلعی شکایتی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ شہری اور سیاسی جماعتیں کمیشن کی ایپ ‘سی-وجل ماڈیول کا استعمال کرتے ہوئے مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ کمیشن نے متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 5,173 سے زائد ‘فلائنگ اسکواڈز تعینات کیے ہیں۔ شکایات پر 100 منٹ کے اندر کارروائی کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر اچانک ناکہ بندی کے لیے 5,200 سے زائد ‘اسٹیٹک سرویلنس ٹیمیں (ایس ایس ٹی) بھی تعینات کی گئی ہیں۔کمیشن نے 15 مارچ کو آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی اسمبلیوں کے عام انتخابات اور 6 ریاستوں میں ضمنی انتخابات کے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ کمیشن نے 24 مارچ کو ان پانچوں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے، نیز ان کے 12 پڑوسی ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں، چیف الیکشن افسران، ڈائریکٹر جنرلز آف پولیس اور سینئر حکام کے ساتھ ساتھ نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد تیاریوں کا جائزہ لینا اور ہم آہنگی بڑھانا تھا، اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ تشدد سے پاک، خوف سے پاک اور لالچ سے پاک انتخابات کو یقینی بنائیں۔