عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// جنوبی کشمیر کے زعفران کے کھیتوں پر حالیہ مسلسل بارش نے کاشتکاروں میں امید کی لہر دوڑا دی ہے، جو کئی ہفتوں سے خشک موسم کے باعث اپنی فصل کو متاثر ہوتا دیکھ رہے تھے۔پامپور، جو کشمیر کے زعفران کا مرکز مانا جاتا ہے، کے کسانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں نے خشک سالی سے متاثرہ کھیتوں میں نمی بحال کر دی ہے اور فصل کے اہم مرحلے پر انہیں بڑی راحت ملی ہے۔ایک معروف کاشتکار عبدالمجید نے بتایا، ’’بارش نے ہمیں کچھ حد تک راحت دی ہے۔ مٹی مکمل طور پر خشک ہو چکی تھی اور ہمیں خدشہ تھا کہ فصل کو شدید نقصان پہنچے گا۔‘‘رواں سیزن کے دوران بارش کی شدید کمی اور غیر معمولی گرمی نے کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ زعفران پر منفی اثر ڈالا تھا۔ یہ فصل موسمی حالات کے لیے نہایت حساس ہوتی ہے اور اس کی بہتر پیداوار کے لیے بروقت اور متوازن نمی ضروری ہوتی ہے، جو اس سال دستیاب نہیں تھی۔کاشتکاروں کے مطابق طویل خشک موسم نے پودوں کی نشوونما کو متاثر کیا، جس سے زیرِ زمین بلب (کارمز) کمزور ہو گئے، جو پیداوار اور معیار کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں۔
عبدالمجید نے مزید کہا،’’جب مٹی میں نمی نہیں ہوتی تو کارمز صحیح طور پر نشوونما نہیں پاتے، جس سے براہِ راست پیداوار متاثر ہوتی ہے۔‘‘جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں کے کسان بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران زعفران کی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ غیر متوقع موسمی تبدیلیاں بتائی جا رہی ہیں۔صرف 2025 میں ہی پیداوار میں تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ اہم مراحل کے دوران خشک موسم کو قرار دیا گیا۔اگرچہ حالیہ بارشوں نے مٹی کی نمی کو بہتر بنا کر کچھ حد تک بہتری لائی ہے، تاہم کسان اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ایک اور کاشتکار علی محمد نے کہا،’’زعفران ایک نہایت نازک فصل ہے، معمولی موسمی تبدیلی بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہمیں شدت نہیں بلکہ تسلسل کی ضرورت ہے، جو اب نظر نہیں آ رہا۔‘‘پلوامہ ضلع میں زیادہ تر کاشت ہونے والا کشمیر کا زعفران ہزاروں خاندانوں کے لیے نہ صرف معاشی سہارا ہے بلکہ خطے کی ثقافتی پہچان بھی ہے۔ تاہم بدلتے موسمی رجحانات—جیسے کم برف باری، بے قاعدہ بارشیں اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت—اس کی بقا کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔کاشتکار اب بہتر آبپاشی نظام اور پانی کے مؤثر انتظام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بارش پر انحصار کم کیا جا سکے۔ایک مقامی کسان نے کہا، ’’مناسب آبپاشی کے بغیر ہم موسم کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مزید کسان زعفران کی کاشت چھوڑ دیں گے۔‘‘فی الحال بارش کے بعد کھیتوں میں عارضی سکون اور امید کی فضا تو قائم ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی موجود ہے کہ آیا کشمیر کا زعفران بدلتے موسمی حالات کا مقابلہ کر پائے گا یا نہیں۔