بلا شبہ تازہ ہوا ، صاف پانی اور صحت مند غذا قدرت کی جانب سے عطا ہوئی ہیں مگر خود انسان نے ان نعمتوں کو آلودہ کر کے اپنی صحت اور قدرت کی اس خوبصورت جنت نظیر زمین کو جہنم بنا دیا ہے ۔اشیائے خوردونوش کی آلودگی نے تو قیامت برپا کر کے رکھ دی ہے ۔ کھانے پینے کی تقریباً تمام چیزوں میں مضرِ صحت چیزوں کی ملاوٹ نے انسانی صحت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے، اس پر ستم کہ دن بہ دن آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہےاور ہر معاملے میں اس کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہےاور یہ آلودگی محض کھانے پینے کی اشیاء تک محدود نہیں بلکہ ہراُس چیز میں موجود ہے جس سے انسان کا سابقہ پڑتا ہے۔
ظاہر ہے کہ پاکیزہ چیزیں جسمانی ، روحانی اور اخلاقی بالیدگی کے ضامن ہیںجبکہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے،لیکن اب اللہ کے اِس فرمان کو بھی انسان نے بھُلا دیا ہے۔اب اگر آلودگیوں کی بات کریں جو نہ صرف انسانوں بلکہ ہر جاندار کے لئے نقصان دہ ہیں، خود انسانوں کی پیدا کردہ ہیں۔ جس کی وجہ سے فضا، دریا، سمندر ، ندی نالے یہاں تک کہ آبپاشی کی نہریں بھی آلودہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ اپنی اس وادیٔ کشمیر کی بات کریں تو ہر ضلع کے زیادہ تر علاقوں سے گذرنے والی صدیوں پُرانی آبپاشی نہریں اور ندی نالے یا تو نیست و نابود کردیئے گئے ہیں یا پھر غلیظ گٹروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ان آبپاشی نہروں اور ندی نالوں کےپانیوں سے نہ صرف کسانوں کے کھیت شاد و آباد رہتے تھے بلکہ مقامی آبادیوں کے لوگ کھانے پینے کی چیزوں میں بھی استعمال کرتے تھے۔آج صورت حال یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی یہ نہریں اور ندی نالےلوگوں کے غاصبانہ قبضوں سے بچ پائی ہیںتو وہاں اُن میں پانی کی کوئی روانی نہیں ہے بلکہ کوڑے کرکٹ اور گندگی و غلاظت کے انبار سے اَٹی پڑی ہیں۔آج تک نہ تو محکمہ ایری گیشن نے ان ندی نالوں اور آبپاشی نہروں کو زندہ رکھنے کی کوئی زحمت گوارا کی ہے اور نہ ہی منصفانہ رویے کے تحت اُن لوگوں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کرنے کی کوشش کی ،جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے ان ندی نالوں کو ہڑپ کر اپنی ذاتی املاک میں شامل کردیا ہے۔
خیر! دوسری طرف جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے بارشوں کی کمی ہو گئی ہے، جس سے زمین کا بڑا حصہ بنجر ہوتا جا رہا ہے ۔ سیلاب کی غیر معمولی آمد کی وجہ سے بہت سے علاقوںمیں بڑی تباہی ہورہی ہےاور کیمیائی فضلے جو سمندر اور دریاؤں میں بہائے جا رہے ہیں، اس سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں یہاں تک کہ بہت سے آبی حیات کی نسلیں ناپید ہو رہی ہیں ۔ہمارے یہاں بھی دیہات میں گھروں کا کوڑا کرکٹ کھیتوں میں ڈال کر قدرتی کھاد کے لئے استعمال ہوتاتھا مگر آج زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئے مصنوعی کھاد کے استعمال نے تمام فصلوںکو صحت کے لئے نقصان دہ بنا دیا ہے ۔ شہرکی آبادی کا ایک بڑا مسئلہ گھروں سے روزانہ کی بنیاد پر نکلنے والے ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ ہے جن کو ٹھکانے لگانے کا دُرست انتظام نہ ہونے کی وجہ سے تعفن پھیلا رہتا ہے جو مختلف بیماریوں کی وجہ بنتاہے۔ اسی طرح ایک بڑی آلودگی سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں چلنے والی گاڑیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ جس سے اعصابی بیماری پھیلتی رہتی ہے ۔چونکہ اب ہمارے دِلوں میں ایمان و عقیدے میں بھی آلودگی پیدا ہوچکی ہے جس کے نتیجے میںاشیائے خوردنی کی ہر چیز میں ملاوٹ کرنا اب عام سی بات ہوگئی ہے اوران افعال سےاپنی اس وادیٔ کشمیر میں خشکی اور تری میں جو فساد برپا ہے، وہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور اسی کا مزہ ہم چکھ بھی رہے ہیں۔
جن دریائوں اور ندی نالوں کا پانی فصلوں کی آبیاری اور پینے میں استعمال ہوتاتھا،آج فصلوں میں بھی بیماریاں پھیلنے کا باعث بن رہا ہے۔ پانی کے بغیر تو کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتااور یہ انسان ،حیوان ،پیڑ پودوںاور نباتات کی زندگی ہے،ہماری کرتوتوں سے نایاب ہورہا ہے۔جس کے نتیجے میں آج دنیا بھر کے ستر فیصد انسان پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے ہم ان سبھی پیدا شدہ حالات کے پسِ منظر میں اپنے آپ پر نظر ڈالیں،اپنے آپ کو ٹٹولیںاور اپنے قول و فعل کا محاسبہ کریں،ساتھ ہی یہاں کی حکومت خصوصاً محکمہ ایری گیشن اس سنگین مسئلہ کا سنجیدہ نوٹس لیں تاکہ صدیو ں پرانی ان ندی نالوں کی شانِ رفتہ بحال ہو،اور کسانوں کو زرعی زمین کی شادابی کے لئے پانی فراہم ہوسکے۔