بلا شبہ ہم سب اس بات کے معترف ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بُرائیوں اور خرابیوں کی کوئی کمی نہیں ہیں،جن میں منشیات کا استعمال سرِ فہرست ہے۔کمسن لڑکے اور لڑکیاںبھی اس گندی لت میں پڑچکی ہیں۔ کوئی بھی ایسی جگہ نہیں، جہاں منشیات کی خریدو فروخت نہیں ہورہی ہے،صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی منشیات کے وباء کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ میڈیا کے ذریعے منشیات کے متعلق ایسی ایسی خبریں عوام کے سامنے آرہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کہیں پر کسی منشیات فروش کی پراپرٹی قرق کی جاتی ہے تو کہیں پر ناجائز طریقوں سے منشیات سمگلنگ کرنے والی خواتین بھی رنگے ہاتھوں پکڑی جاتی ہیں،عام سی بات بن چکی ہے۔حالانکہ ہم سبھی اس بات سے واقف ہیں کہ تمباکو کے استعمال سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور صحت کو بڑے پیمانے پر نقصانات پہنچ رہے ہیں۔
کسی بھی فرد،چاہے وہ سگریٹ نوش ہو یا نہ ہو،کے ذہن میںیہ بات اُبھر آتی ہےکہ سگریٹ نوشی کسی بھی صورت میں انسانی صحت کے لئے ٹھیک نہیں، لیکن اس کے باوجود لوگ سگریٹ نوشی سے گریز نہیں کرتےبلکہ سوشل میڈیا اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان کو سگریٹ نوشی اور تمباکومصنوعات کی طرف راغب کیا جارہا ہے۔حالانکہ دنیا بھر کے سروے رپورٹس سے ظاہر ہورہا ہے کہ زیادہ تر ممالک میں 13 سے 15 سال کی عمر کے بچے تمباکو اور نکوٹین والی مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔جس سے یہ خدشہ پروان چڑھ رہاہے کہ نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رُجحان بہت سارے ممالک میں خطرناک صورت اختیارکرچکا ہےجبکہ ہمارا ملک بھی اسی صورت حال سے دوچار ہے۔عالمی سروے ریکارڈز کے مطابق دُنیا بھر میں13 سے 15 سال کی عمر کے 38 ملین سے زیادہ بچے کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کر رہے ہیں،جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں تمباکو نوشی کی لت میںایک سو فیصد تک کا اضافہ ہواہے۔حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق مختلف اقسام کے کینسرز کا سب سے بڑا سبب تمباکو ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی 90 فیصد اموات کی وجہ صرف تمباکو نوشی ہے۔
ماہرین و محققین کےبقول انسانی صحت کے لئے تمباکو نوشی اور تمباکو کے استعمال مختلف قسم کی دیگرمہلک بیماریوں کا بھی سبب بن رہے ہیں۔محققین کے مطابق تمباکو سے ہر سال دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔تمباکو سے تقریباً 35 لاکھ ہیکٹر رقبے پر ماحول متاثرہو رہا ہے،تمباکو اُگانے کے لئے ہر سال 2 لاکھ ہیکٹر جنگلات، اِس کی کاشت کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں۔اسی طرح دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 4.5 لاکھ کروڑ سگریٹ کےبِٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے ہر سال 80 کروڑ کلو گرام زہریلا کچرا پیدا ہوجاتا ہے ،جس سے جہاں ماحولیات پرا گندہ ہو کر بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے، وہیں کرہ ارض پر انسانی زندگی کی بقاء کے لئے موجود پینے کا پانی بھی آلودہ ہو کر رہ جاتا ہے۔بعض رپورٹس کے مطابق ہندوستان کی سات ریاستوں میں92 فیصد لوگ کھانے والا تمباکو ،یعنی گٹکا استعمال کررہے ہیں،جبکہ تمباکو کی صنعت،مختلف حکمت عملیوںکے تحت نئی مصنوعات کی شکلوں میں مارکیٹ میں پھل پھول رہی ہے۔
چنانچہ تمباکو مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ پر ہمارے یہاں سخت ضابطوں پر عمل نہیں ہورہا ہے ،اس لئے تمباکو مصوعات کا استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھتا چلا جارہا ہے، جو ہماری نوجوان نسل کو مختلف مہلک بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار کرتا ہےاور مرنے والوں کی تعداد کو کم کرنے والی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سگریٹ نوشی اور تمباکو مصنوعات کے استعمال سے پیدا ہونے والے مہلک محرکات پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کریںاور نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کی لت سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم آنے والی نسل کو تمباکو کی مصنوعات اور گمراہ کن آن لائن اشتہارات سے بھی بچائیں ۔ہماری حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے دستیاب قوانین کو بھرپور طریقے سے نافذ کریںتاکہ سگریٹ نوشی اورتمباکو کے استعمال کو کسی حد تک قابو میں لایا جاسکے۔