عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پوری عالم انسانیت مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران پر گہری تشویش میں مبتلا ہے جبکہ اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کئے جارہے ہیں اور مستقبل میں اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ان باتوں کا اظہار صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ گپکار روڈ پر جموں و کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں سے آئے عوامی وفود، معزز شہریوں، پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان سے ایام عید اور ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے نائب صدر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ صہیونی طاقتیں ہمیشہ اسلام اور انسانیت کے خلاف سازشیں کرتی رہی ہیں اور روز اول سے مسلم دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جموں و کشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آئینِ ہند کے تحت حاصل حقوق کی جلد از جلد بحالی ضروری ہے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے، کیونکہ یہاں کے عوام نے یو ٹی نظام کو قبول نہیں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک جمہوری حکومت واضح مینڈیٹ کے ساتھ قائم ہو چکی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ عوامی حکومت کو مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاستی درجہ جلد بحال ہوگا اور حکومت بلا رکاوٹ اپنے فرائض انجام دے سکے گی۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کے ممبرانِ پارلیمان پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کے جمہوری اور آئینی حقوق کی بحالی کیساتھ ساتھ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ اُجاگر کرتے ہیں اور عوام کی آواز ملک کے اس سب سے بڑے ایوار میں اُٹھاتے رہیں۔فاروق عبداللہ نے عالم یوم شجر کاری کے موقعے پر تینوں خطوں کے عوام سے تلقین کی کہ وہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کیلئے شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اُنہوں نے سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں، مساجد کے صحنوں اور عام شہراہوں کے اردگرد پودے نصب کرنے پر زور دیا۔اُنہوں دیہات میں رہنے والوں لوگوں سے تاکید کی ،کہ وہ شجرکاری کی جاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیکر زیادہ سے زیادہ پودے اپنے گرد نواح لگائے۔