بلا شبہ جو انسان خدا سے ڈرتا ہے،خدا اُس کے سب کام آسان کردیتا ہے اور جس انسان نے خدا کے حدود سے باہر قدم رکھا ،اُس نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا ہے۔ جو انسان گمراہ ہوگیا، اُس کا نقصان وہ خود ہی اٹھائے گا جب کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے ،جس سے دوسروں کو فائدہ پہونچےاور جو رضائے الٰہی کے لئےلوگوں کی حاجت برآری کرتا رہا اور کسی نہ کسی طرح دوسروں کو فائدہ پہچاتا رہا،تو گویااُس نے تمام زندگی خدا کی خدمت میں گذاری۔کیونکہ انسانی زندگی چند روزہ ہے لیکن اس کی ذمہ داری کئی حصہ زیادہ ہے،اس لئے جو انسان اپنی زندگی کو باقاعدہ اور عمدگی کے ساتھ بسر کرتا ہے ،وہ پھل دار درخت کی مانند ہوجاتا ہے ،ورنہ خار دار جھاڑی ہی رہ جاتا ہے۔
بے شک انسانی زندگی کو ہر دور میں نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ سلسلہ وجود کائنات سے تا ایں دم چلتا آرہا ہے اور تا قیامت جاری رہے گا ۔کیونکہ دنیا جس کا مطلب ہی ہے بدلنا ہے،یہاں ہر وقت ہر شۓ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہو جاتی ہے ،جہاں ایک طرف انسان کو غموں نے گھیر لیا ہوتا ہے ،وہیں دوسری طرف خوشیوں کے چرچے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ جہاں وہ اُداسی کے لبادے میں ملبوس رہتا ہے،وہیں مسرت کا جام بھی اُسے مہیا ہو جاتا ہے ۔اس لئےانسان کو ہر حال میں نادِم اور شاکر بندہ ہو کر رہنا چاہیے۔ پھر چاہے وہ غربت کی حالت میں ہو یا شہنشاہی میں ،صحت مند ہو یا مریض۔کیونکہ یہ چیزیں دستورِ حیات میں شامل ہے ،لہٰذا اس کو دستورِ شیوہ نہ بنایا جائے ۔ظاہر ہے کہ انسان کو ہر وقت زندگی کی شکوہ شکایتیں ، اپنی قسمت پر رونا باعث مصیبت بنا کے رکھ دیتا ہے، دراصل یہ اس کے ضعیف الایمان ہونے کی نشانی ہوتی ہے ۔
ایمان و ایقان اگر اس کے اندر ہوتا تو وہ ہر حال میں راضی ہوتااور جو انسان اپنی قسمت پر لعن و طعن کرتا رہتا ہے، اُس کے پاس اگرچہ ساری نعمتیں موجود ہوں ، لیکن عادتاًوہ ربّ العزت کا ناشُکرا رہتا ہے ۔ اللہ نے انسانوں کو مشقت کے لئے پیدا کیا ہے ۔ وہ یہاں چین و راحت سے لبریز نہیں رہ سکتا ،کیونکہ یہ دنیا پریشانیاں اور سختیاں جھیلنے کی جگہ ہے، کوئی انسان اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ۔انسان کوسُکھ یا دُکھ ہمیشہ رہنے والا نہیں، اُتارچڑھاؤ زندگی کا ایک حصّہ ہے جس سے ہر ایک کو گزرنا پڑتا ہے اور جو شخص اس دنیا میں خوشحالی سے زندگی بسر کرنا چاہتا ہے ،اُس کو لازم ہے کہ وہ ہمیشہ نیک نیتی کا مظاہرہ کرے اور معلومات اور تجربات حاصل کرنے کے لئے ہر دم کوشاں رہے کہ اس کے بغیر انسانی زندگی کا جہاز ساحل ِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا ۔جبکہ وہ شخص ایک ناکارہ اور بے عقل انسان ہے، جس نے آج تک اپنے وجود پر غور و فکر نہیں کیا کہ آخر میں میرا وجود بخشنے والا کون ہے اورمجھے دنیا میں کس لئے لایا گیا ہے؟ اگر یہ تمام سوالات انسان کے ذہن میں اُبھر آتے تو آج لوگ ہر سمت آفت کے شکار نہ ہوتے ۔ یاد رہے کہ خودداری سے انسان کو معرفت نفس ہو جاتی ہے اور اگر اس کی کمی ہو تو انسان کے اندر رزیلہ خصائل پروان چڑھ جاتے ہیں ۔خوداری ویران بستیوں کو آباد کر دیتی ہے، یہ انسان کو عزت نفس اور دوسروں کے سامنے دست ِسوال دراز کرنے سے پرہیز کرنا سکھاتی ہے ۔ انسان کو مفلوک الحالی سے نکال کر ترقی کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔
انسان خودی سے انسانیت کے اعلیٰ درجے پر معمور ہو جاتا ہے جہاں اس کو حقوق اللہ و حقوق العباد کا لحاظ رہتا ہے۔ جب انسان اپنی ذات کو دیکھ کر تفکر کی منازل طے کرتا ہے تووہ اپنے وجود سے بھی باخبر ہوجاتا ہےاور اُس کے اپنے خالق سے بھی رابطے شروع ہو جاتے ہیں ۔لیکن اگر خود کو بے لگام چھوڑ دیا تو گمراہوں کی صف میں شمار ہو کر پیوند ِخاک ہو جاتا ہے۔لہٰذاضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود کو وقت دیں اور یہ سوچے کہ ہم کس راہ کے مسافر ہیں، برعکس اسکے کہ ہم ناشکرہ اورشکوہ کرنے والے بنیں ۔شکو ہ و شکایت کرنے والے خوشحال زندگی نہیں گزارتے۔ ہمارے پاس اتنا توشہ ہونا چاہئے جو ہمیں ابدی زندگی کے لیے کافی ہو ۔ دنیاوی ناکامیوں پر رونا دھونا ،حسد و بغض ، عداوت و کینوں سے باز رہ کر خود ی پہ دھیان دیںتوہمارا رشتہ خدا سے مضبوط ہو جائے گا ۔