یو این ایس
سرینگر//عیدالفطر سے قبل اور مابعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا ’کشمیری چوڑیاں‘ کا ٹرینڈ پورے برصغیر کے بازاروں میں مقبول ہو گیا ہے، تاہم اس کے نام اور اصل کشمیری ثقافت سے تعلق پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔انسٹاگرام ریلز کے ذریعے مقبول ہونے والا جملہ ’کشمیری چوڑیاں لینے چلے؟‘ نے سرینگر سے لے کر حیدرآباد اور ممبئی تک ان چوڑیوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
کشمیر میں بھی سوپور، بارہمولہ اور شہر خاص کے بازاروں میں عید سے قبل غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق دکانداروں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں ان چوڑیوں کی مانگ اچانک بڑھ گئی ہے، جن میں رنگین شیشے کی چوڑیوں کے ساتھ سنہری گھنگرو والی چوڑیاں شامل ہیں۔ ان کی قیمت کشمیر میں 250سے 500روپے کے درمیان ہے جبکہ بڑے شہروں میں یہی سیٹ 1200سے 1500روپے تک فروخت ہو رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوان لڑکے بھی بڑی تعداد میں یہ چوڑیاں خرید کر اپنے عزیزوں کو تحفے میں دے رہے ہیں، جس سے اس ٹرینڈ کی مقبولیت مزید واضح ہوتی ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ’کشمیری چوڑیاں‘ دراصل کشمیر کی روایتی زیورات کا حصہ نہیں ہیں۔ ماضی میں کشمیری خواتین زیادہ تر سونے کے زیورات استعمال کرتی تھیں جبکہ شیشے کی چوڑیوں کا رواج بہت محدود تھا۔ مقامی سطح پر ’بینگرہ‘ اور ’کینکنہ‘ جیسے نام ضرور موجود تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کا استعمال کم ہوتا گیا۔ماہرین کے مطابق یہ موجودہ ٹرینڈ کشمیری فنکاری سے جزوی طور پر متاثر ضرور ہے، جیسے باریک ڈیزائن اور گھنگرو کا استعمال، مگر یہ ایک جدید اور تجارتی انداز میں تیار کی گئی چیز ہے، جسے بڑے پیمانے پر دیگر شہروں یا بیرون ملک تیار کیا جا رہا ہے۔اس رجحان نے جہاں عید کے فیشن کو نئی پہچان دی ہے، وہیں ثقافتی شناخت اور اصلیت پر بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ تاہم فی الحال بازاروں میں مانگ برقرار ہے اور رنگ برنگی چوڑیوں کی کھنک اس عید کی نمایاں پہچان بنتی جا رہی ہے۔