عظمیٰ نیوزسروس
اننت ناگ// جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے مشہور سیاحتی مقام ویری ناگ میں سائنسی بنیادوں پر کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے قائم کیا گیا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ بدانتظامی کا شکار ہو گیا ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ناقص انتظامیہ کے باعث یہ سہولت اب ایک کچرا ڈمپنگ گراؤنڈ میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں سے شدید بدبو اٹھتی ہے اور ماحولیاتی خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔یہ پلانٹ ڈورو اورویری ناگ کے تقریباً 17 وارڈز سے کچرا وصول کرتا ہے۔تاہم مقامی افراد کے مطابق کچرے کی مناسب درجہ بندی اور علیحدگی نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے پلانٹ کے اندر اور اطراف میں ملا جلا کچرا ڈھیر کی شکل میں جمع ہو رہا ہے۔یہ ڈمپنگ سائٹ ایک حساس علاقے میں واقع ہے جہاں ایک جانب لیونڈر پارک ہے اور دوسری جانب کھیل کا میدان موجود ہے جبکہ قریب ہی رہائشی آبادی بھی واقع ہے۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے کیونکہ کچرا بہہ کر قریبی ندی نالوں میں شامل ہو جاتا ہے، جس سے ویریناگ میں دریائے جہلم کے منبع کے قریب آلودگی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔مقامی رہائشی محمد زاہد نے کہا،’’جب بارش ہوتی ہے تو کچرا بہہ کر ندی نالوں میں چلا جاتا ہے جو بالآخر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ کشمیر کی شہ رگ سمجھے جانے والا یہ دریا یہیں سے نکلتا ہے۔‘‘یہ پلانٹ دراصل بایوڈیگریڈیبل کچرے کو ورمی کمپوسٹنگ کے ذریعے کھاد میں تبدیل کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باورچی خانے کے کچرے کے لیے بنائے گئے کمپوسٹ گڑھے اب پلاسٹک اور پولیتھین سے بھر چکے ہیں۔محمد زاہد نے کہا،’’ورمی کمپوسٹ کے گڑھے پلاسٹک اور پولیتھین سے بھر گئے ہیں جس کی وجہ سے کھاد بنانے کا عمل مکمل طور پر رک گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید الزام لگایا کہ غیر بایوڈیگریڈیبل کچرا، بشمول پلاسٹک اور پولیتھین، اکثر کھلے عام جلایا جاتا ہے۔مقامی نوجوان بلال احمد نے بتایا کہ یہ ڈمپنگ گراؤنڈ آوارہ کتوں کے لیے خوراک کا مرکز بھی بن گیا ہے۔انہوں نے کہا،’’یہاں مردہ جانور بھی پھینکے جاتے ہیں جس کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور یہاں سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی ہے۔‘‘ایک اور رہائشی یونس ریشی نے کہا کہ کچرے سے اٹھنے والی شدید بدبو کے باعث نوجوانوں کے لیے قریبی میدان میں کھیلنا مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا،’’بدبو کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے میدان میں کھیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یا تو اس ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کو یہاں سے منتقل کیا جائے یا پھر اس کی مناسب دیکھ بھال کی جائے۔ نوجوانوں نے یہاں کرکٹ اور دیگر کھیل کھیلنا بھی چھوڑ دیا ہے۔‘‘حکام نے تسلیم کیا ہے کہ پلانٹ کو آپریشنل مسائل کا سامنا ہے۔اس سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سہولت سے وابستہ ایک اہلکار عبدالرشید نے بتایا کہ کمپوسٹ کے گڑھے پہلے ہی بھر چکے ہیں اور بعض اوقات کچرا ان کے باہر بھی پھینکنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم کچرے کی مناسب علیحدگی کرتے ہیں، تاہم جگہ اور افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے کبھی کبھار کچرا گڑھوں اور پلانٹ کے باہر ڈالنا پڑتا ہے۔‘‘میونسپل کمیٹی ڈورو-ویریناگ کے ایگزیکٹو آفیسر محمد اقبال نے بھی پلانٹ میں مسائل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا،’’اس وقت صرف صفائی عملہ آؤٹ سورس کیا گیا ہے اور وہ پلانٹ کو مناسب طریقے سے برقرار نہیں رکھ پا رہے تھے۔ پہلے یہ سائٹ ہماری نگرانی میں تھی، لیکن اب ہم نے اسے مکمل طور پر ایک بیرونی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا کام صرف کچرا منتقل کرنا ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مکمل آؤٹ سورسنگ کے بعد اس سہولت کو سائنسی بنیادوں پر چلایا جائے گا جہاں کچرے کی مناسب علیحدگی اور پروسیسنگ کی جائے گی۔تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ مقام ایک اہم سیاحتی مرکز اور دریائے جہلم کے منبع کے قریب واقع ہے، اس لیے حکام کو فوری طور پر مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہاں کچرے کے انتظام کو بہتر بنایا جا سکے۔