عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے کل جموں و کشمیر میں ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے بہتر سائنسی تکنیکوں کو اپنانے ، جدید انفراسٹرکچر اور ویلیو ایڈیشن کی ترقی پر زور دیا جبکہ سیکٹر کی پائیداری اور ماہی گیر کسانوں کی روز گار کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے ۔ اس بات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے شیر کشمیر انٹر نیشنل کانفرنس سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) سرینگر میں منعقدہ ایک روزہ نیشنل کانفرنس آن کولڈ واٹر فشریز سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ کانفرنس بھارت کی ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پائیدار استعمال کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کیلئے پہلی قومی سطح کے مکالمہ کے طور پر بیان کی گئی ۔ یہ کانفرنس وزارت ماہی گیری ، جانوروں کی پرورش اور ڈیری حکومت ہند کے محکمہ ماہی گیری کی جانب سے منعقد کی گئی تھی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ میں مرکزی وزیر اور ان کے ساتھیوں کا پرجوش خیر مقدم کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو مزید بڑھانے کے اس انتہائی اہم کانفرنس کے لئے سرینگر کا انتخاب کیا ۔ ‘‘
شعبے میں سیکھنے اور جدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ کانفرنس نے پہلے ہی ماہی گیری میں ابھرتے ہوئے جدید طریقوں کے بارے میں نئی بصیرتیں فراہم کی ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ اب تک ہمارا یقین تھا کہ سرد پانی کی ماہی گیری صرف پہاڑی علاقوں جیسے جموں و کشمیر ، ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور شمال مشرقی علاقوں تک محدود ہے ۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ علاقے ہی اپنی جغرافیائی خصوصیات کی وجہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ لیکن آج ہمیں کچھ نیا معلوم ہوا ۔ ‘‘ ملک کے دیگر حصوں میں جدت پسندانہ آبی زراعت کے طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حیدر آباد کے ایک نوجوان کاروباری کی مثال دی جو گرم آب و ہوا میں جدید تکنیکوں کے ذریعے ٹراٹ پیدا کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا ’’ ہم نے حیدر آباد کے ایک نوجوان کاروباری کے بارے میں سُنا جس نے تقریباً 200 میٹرک ٹن ٹراٹ پیدا کرنے کی سہولت قائم کی ہے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی جغرافیائی حدود کو عبور کر سکتی ہے ۔‘‘
سائنس اور تحقیق کے زیادہ استعمال کا مطالبہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے زور دیا کہ سرد پانی کی ماہی گیری کی مستقبل کی ترقی کیلئے جدت انتہائی اہم ہو گی ۔ انہوں نے کہا ’’ سائنس اور تحقیق کو اس شعبے کی ترقی کی رہنمائی کرنی چاہئیے ۔ ہمیں نئی تکنیکوں اور ایجادات کی نشاندہی کرنی ہو گی جو ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو پائیدار طریقے سے بڑھانے میں مدد دے سکیں ۔ ‘‘انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں زراعت ، باغبانی اور ماہی گیری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ موسمیاتی تبدیلی تیزی سے واضح ہو رہی ہے ۔ ہم نے حال ہی میں فروری میں سرینگر میں غیر معمولی درجہ حرارت دیکھے اور اس سال درختوں کا جلد پھول آنا ، یہاں تک کہ ٹیولپ گارڈن بھی معمول سے کہیں پہلے تیار ہو گیا ہے ۔ یہ تبدیلیاں ماہی گیری جیسے شعبوں پر ناگزیر طور پر اثر انداز ہوں گی اور ہمیں تیار رہنا ہو گا ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ تقریباً 126 سال ہو چکے ہیں جب 1900 کے آس پاس کشمیر میں ٹراؤٹ متعارف کرایا گیا تھا ۔ اس شعبے میں ہمارا بھر پور تجربہ ہے اور ہمیں اسے دوسروں کے ساتھ شئیر کرنا چاہئیے جبکہ ہمیں ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور شمال مشرقی ریاستوں کے بہترین طریقوں سے بھی سیکھنا چاہئیے ۔ ‘‘ عمر عبداللہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ مرکز ، ریاستوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون سے بھارت کے ماہی گیری شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔ اس موقع پر مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ نے اعلان کیا کہ اننت ناگ کے کوکر ناگ میں ایک مربوط ایکوی کلچر پارک تیار کیا جائے گا ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی وزیر کا اس اعلان پر شکریہ ادا کیا جو جموں و کشمیر میں ماہی گیری کے شعبے کی مزید ترقی کا باعث بنے گا ۔