محمد الیاس متوی
کہتے ہیں کسی زمانے میں سلامپور نام کی وادی بہت ہی مشہور ہوا کرتی تھی ۔ یہ بہت ہی سرسبز، زرخیز اور گلشنِ انسانیت کے مالی کی مشال کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ اس وادی کی بنیاد دو بھائیوں، مہدی اور عادل نے رکھی تھی۔ دونوں کے ہاتھوں میں محنت کی خوشبو تھی اور پیشانیوں پر سجدوں کا نور۔ ان کی اولاد اس قدر پھیلی کہ ایک گھر قبیلہ بنا اور قبیلہ بستی میں ڈھل گیا۔
مگر ہر روشنی کے کنارے ایک سایہ بھی جنم لیتا ہے۔اسی بستی کے کونے میں ایک اور گھر تھا ۔ تلبیس کا گھر۔
تلبیس، جس کے لبوں پر شہد ٹپکتا تھا اور دل میں زہر پلتا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں خلوص کا فریب تھا اور باتوں میں خیرخواہی کا لبادہ۔ وہ لفظوں سے جال بنتا اور رشتوں کو ان دیکھے دھاگوں سے باندھ کر پھر آہستہ آہستہ کاٹ دیتا۔ابتدا میں مہدی اور عادل کے آباء واجداد علم کے چراغ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اندھیرا کبھی روشنی کو شکست نہیں دے سکتا۔ جب تک چراغ جلتا رہے گا۔ ان کی محفلیں علم کے سمندر تھیں، اور فیصلے حکمت کے ترازو میں تولے جاتے تھے۔ تلبیس لاکھ وسوسے پھونکتا مگر ان کے یقین کی دیواروں میں دراڑ نہ ڈال پاتا تھا۔ پھر وقت بدلتا گیا۔
نئی نسل نے کتابوں کو الماریوں میں سجا کر رکھ دیا اور مشعلوں کی جگہ آرائش کے قمقمے لگا لئے۔ علم جو کبھی اوڑھنا بچھونا تھا، اب محض وراثتی قصہ بن گیا۔ اصول جو کبھی زندگی کا محور تھے، اب تقریروں کی زینت بن کر رہ گئےتھے۔
ادھر تلبیس نے زمانے کی رفتار کو پہچان لیاتھا۔اس نے لوہے کے تاروں اور روشنی کے پردوں میں اپنی آواز بسا دی۔وہ اسکرینوں کے پیچھے سے بولتا اور دلوں کے اندر اُتر جاتا۔اس نے خواہش کو آزادی کا نام دیا، طمع کو ترقی کا اور چغلی کو خبر رسانی کا۔
مہدی اور عادل کی نسلیں، جو کبھی ایک دسترخوان پر بیٹھی تھیں، اب ایک دوسرے کے زوال میں مسرت ڈھونڈنے لگیں۔ کسی کے گھر چراغ بجھتا تو دوسرے کے آنگن میں جشن سا برپا ہو جاتا۔ خون کی ندیاں بہنا عام سی بات ہو گئی تھی۔ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اب وہ لفظوں سے بھی بہتی رہیں۔تعداد میں وہ زیادہ تھے، مگرلڑی کے دانوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔
تلبیس کی اولاد مٹھی بھر تھی، مگر منظم۔یوں ہوا کہ کھیل کے تخت پر مہرے تو مہدی اور عادل کے تھے، مگر ہاتھ تلبیس کا تھا۔وہ مسکراتا اور بس انگلی ہلاتا، اور بھائی بھائی کے خلاف صف آرا ہو جاتے۔کسی نے نہ دیکھا کہ اصل جنگ زمین کی نہیں، ذہنوں کی تھی۔اصل شکست تلوار کی نہیں، فکر کی تھی اور وادی، جو کبھی علم کی خوشبو سے مہکتی تھی، اب خوفناک آوازوں کے ہجوم میں گم تھی۔ جہاں ہر لب شیریں تھا، مگر ہر دل تشنہ تھا۔ایسا لگ رہا تھا وہ لبوں کے شرین کی صورت میں ابلیس کا سحر ہو۔
���
دراس لداخ،موبائل نمبر؛ 9469732903