عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث ملک بھر میں کمرشل گیس سلنڈروں کی کمی کے درمیان حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اب کمرشل گیس سلنڈر کی سپلائی میں 20 فیصد کوٹہ دیا جائے گا، جس سے ہوٹل اور ریستوران کے شعبے کو کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس جنگ کے اثرات کے باعث ملک بھر میں گیس کی قلت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ملک میں گیس کے بحران کے دوران مرکزی حکومت کا یہ بڑا قدم ہوٹل اور ریستوران صنعت کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ کئی ریستوران بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں کیونکہ کھانا پکانے کے لیے ان کے پاس گیس دستیاب نہیں ہے۔
کچھ ہوٹلوں اور ڈھابوں کے مالکان نے تو اپنے مینو تک تبدیل کر دیے ہیں۔اسی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے سینئر حکام کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں کمرشل ایل پی جی کی موجودہ صورتحال اور اس کے ہوٹل، ریستوران اور سیاحت کے شعبے پر پڑنے والے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس دوران مرکزی حکومت نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کی کوئی کمی نہیں ہے اور گھریلو صارفین کو سپلائی میں ترجیح ملتی رہے گی۔ عہدیداروں نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور اضافی سلنڈر بک کرنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ تقسیم کا نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔حکام نے کہا ہے کہ اگر سپلائی کے حوالے سے کوئی چیلنج پیدا ہوتا ہے تو گھریلو صارفین کو کمرشل صارفین پر ترجیح دی جائے گی۔حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ لوگوں کو گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ بڑی ایل پی جی کمپنیوں کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔حال ہی میں ایک اہم تبدیلی نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت ایل پی جی بکنگ سائیکل کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے پہلے، صارفین 21 دنوں کے بعد دوبارہ بھرنے والا سلنڈر بک کر سکتے تھے۔ اب بکنگ کے درمیان وقفہ بڑھا کر 25 دن کر دیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے کہا کہ یہ تبدیلی تمام خطوں میں ایل پی جی سلنڈروں کی مساوی تقسیم کو یقینی بنانے میں مدد کرتی ہے۔ بکنگ کا وقفہ بڑھانا غیر ضروری ذخیرہ اندوزی کو روکتا ہے اور غیر یقینی عالمی حالات کے درمیان سپلائی چین کو آسانی سے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔