عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پی ڈی پی ،جے کے کانگریس ،ممبران پارلیمنٹ ،اپنی پارٹی ،میر واعظ ،پیپلز کانفرنس ،اے آئی پی ،جمعیت ہمدانیہ،سول سوسایٹی فورم سمیت متعدد سیاسی،مذہبی ،سماجی جماعتوں اور رہنماؤں نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پرشدید مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
محبوبہ مفتی
سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ایک سنگین سیکورٹی لاپروائی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوںکہا کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک بڑے سیاسی رہنما پر حملہ ہے بلکہ سیکورٹی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس خبر سے شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں اور اس واقعے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔
طارق قرہ
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات خطے میں موجود سیکورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون و امن برقرار رکھنے کے ذمہ دار اداروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آل انڈیا کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر غلام احمد میرنے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر اس طرح کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں اور سیکورٹی نظام کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔سیف الدین سوز نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔
الطاف احمد بخاری
اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے فاروق عبداللہ پر مبینہ حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیکورٹی کی نازک صورتحال کی واضح یاد دہانی قرار دیا۔انہوں نے واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جاے اور اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
میاں الطاف
نیشنل کے رکن پارلیمنٹ میاں الطاف نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے ہمراہ موجود دیگر رہنما محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
آغا روح اللہ
رکن پارلیمنٹ اغا روح اللہ نے بھی اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق قصورواروں کو سزا دی جانی چاہیے۔
میرواعظ
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فار م X پر کہا یہ جان کر اطمینان ہوا کہ ڈاکٹر فاروق اس واقعے میں محفوظ رہے اور انہیں کوئی گزند نہیں پہنچی۔ یہ بات کہ ایک مسلح شخص ان کے اتنا قریب پہنچ گیا اور ان پر فائرنگ کی، انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس کی مکمل اور باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سجاد لون
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری عمران انصاری نے بھی فائرنگ کے واقعہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اے آئی پی
عوامی اتحاد پارٹی ترجمان انعام النبی نے واقعے کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تشدد کی کارروائیوں کی جمہوری معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اجتماعات میں سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانا ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کی نشاندہی ہو کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔بارہمولہ سے ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور ڈاکٹر فاروق اور ان کے خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
مولانا ہمدانی
جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نہایت افسوسناک، بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل قرار دیا ہے۔اپنے ایک سخت ردِعمل میں مولانا ہمدانی نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف جمہوری اقدار پر حملہ ہیں بلکہ جموںوکشمیر کی پرامن سیاسی روایت کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر کسی بھی سیاسی رہنما کی جان لینے کی کوشش ایک ناقابلِ قبول جرم ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے
سول سوسائٹی فورم
جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقَیوم وانی نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور عوامی شخصیات کے خلاف تشدد یا دھمکی آمیز رویہ کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو ہمیشہ جمہوری مکالمے اور پْرامن طریقوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔