بلا شبہ بہترین فعل عبادت ہے اور بہترین قول ذِکرہے۔ اس لئےخدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اُس کو دیکھتے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سے وہی بہتر ہے جو پرہیز گار اور عبادت گذار ہےجبکہ بے دِلی سے عبادت کرنا دُنیا اور آخرت دونوں کو کھونے کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ گوشۂ نشینی بھی عبادت ہے اور کم سونا بھی عبادت ہے تاہم روزہ رکھو تو کھائو بھی،نمازیں پڑھو تو سوئو بھی،کیونکہ یہ بھی عبادت میں شمار ہے۔اسی طرح خیرات بھی جہاں افضل عبادت ہے وہیں کار خانۂ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے۔
بے شک انسان کی روح فطری طور پر ارتکاز کی طالب ہوتی ہے اور یہ ارتکاز خلوت کے بغیر میسر نہیں آتا۔ عبادت کی اصل تاثیر اُسی لمحے جنم لیتی ہے جب انسان اپنے آپ کو بیرونی انتشار سے الگ کر کے پوری توجہ کے ساتھ اپنےخدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ روزہ اسی مقصد کی ایک گہری تربیت ہے، یہ انسان کو صرف خواہشات کے نظم و ضبط کی مشق نہیں کراتا بلکہ توجہ کے نظم و ضبط کا شعور بھی عطاء کرتا ہے۔ یعنی یہ سکھاتا ہے کہ دل کو بیک وقت کئی سمتوں میں بکھرنے کے بجائے ایک مرکز پر ٹھہرنا چاہیے۔ مگردکھائی یہی دیتا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور کی مصروفیت اِس یکسوئی کو قائم رہنے نہیں دیتی بلکہ توجہ ہر لحظہ منقسم رہتی ہے۔ ایک طرف تلاوت کے الفاظ ہیںتو دوسری طرف موبائل کی اچانک بجتی گھنٹی۔ ایک جانب دُعا کے آنسو ہیںتو دوسری جانب اسکرین کی چمک۔ اس تقسیم میں عبادت کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اور رمضان کی وہ تربیت جو انسان کو ٹھہراؤ، سکون اور یکسوئی سکھانے آئی تھی، اُدھوری رہ جاتی ہے۔اس ڈیجیٹل دور کی تنہائی ،ایک عجیب اور گمبھیر تضاد ہے۔ انسان بظاہر ہزاروں دوستوں، فالوورز اور گروپس میں گھرا ہوا ہے، ہر لمحہ رابطے میں ہے، مگر دل کی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہے۔ رمضان میں یہ تنہائی اُس وقت اور گہری ہو جاتی ہے جب عبادت بھی نمائشی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ تلاوت کی تصاویر، دُعا کی ویڈیوز اور افطار کے اسٹیٹس بظاہر دینداری کے اظہار معلوم ہوتے ہیں مگر ان کی کثرت میں عبادت کی خاموش لذّت کھو جاتی ہے، وہ سکوت جو عبادت کو گہرائی بخشتا ہے، نمائشی شور میں دَب جاتا ہے۔وہ لمحہ جو انسان کو اپنے خداکے قریب لے جانے کے لئے تھا، دوسروں کی نگاہوں میں آنے کی خواہش کی نذر ہو جاتا ہے۔
عبادت ایک باطنی تجربہ ہونے کے بجائے ایک ظاہری منظر میں ڈھلنے لگتی ہے اور دِل کی آنکھ بند ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک دراصل انسان کو یہ سکھانے آتا ہے کہ اصل قرب دکھانے میں نہیںچُھپانے میں ہے، اصل تاثیر اعلان میں نہیں اخلاص میں ہے۔ اگر انسان اس مہینے میں اسکرین سے نظریں ہٹا کر دل کو حاضر کر لے تو ڈیجیٹل دور کی یہ تنہائی ایک نعمت میں بدل سکتی ہے۔ ایسی خلوت میں جو روح کو مجتمع کرتی ہے، توجہ کو یکجا کرتی ہے اور انسان کو اس کے ربّ کے قریب کر دیتی ہے۔ذرا غور کریں کہ سحر کی خاموشی جو کبھی دعا، استغفار اور تلاوت کا مقدّس وقت ہوا کرتی تھی، اب اکثر بے مقصد اسکرولنگ اور پیغامات کے فوری جواب میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ لمحے جو دل کو بیدار کرنے کے لیے تھے، انگلیوں کی بے قراری کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح افطار کے وہ لمحات جو شُکر، سکوت اور عاجزی کا تقاضا کرتے تھے، اسکرین پر قید تصاویر، ویڈیوز اور اسٹیٹس میں تقسیم ہو کر اپنی گہرائی کھو دیتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع بذاتِ خود نہ خیر ہیں نہ شر، اصل مسئلہ نیت، ترجیح اور استعمال کے طریقے کا ہے۔اگر یہی ٹیکنالوجی قرآن تک آسان رسائی، علم کی ترسیل، فکر کی بالیدگی اور نیک پیغام کے فروغ کا ذریعہ بن جائے تو یہی تنہائی قربت میں بدل سکتی ہے۔
مگر اس تبدیلی کے لیے شعوری ضبط درکار ہے، وہی ضبط جس کی تربیت رمضان اپنے روزوں، اپنی خلوتوں اور اپنے صبر کے ذریعے دیتا ہے۔ جب اسکرین کا استعمال عبادت کے تابع ہو جائے اور عبادت اسکرین کے تابع نہ رہے، تب ڈیجیٹل دور میں بھی رمضان کی روح زندہ رہ سکتی ہےاور یاد رکھو کہ عبادت عادت ترک کرنے کا نام ہے نہ کہ عبادت کو عادت بنالینے کا۔ عبادت اتنی کرو جتنی تمہیں حاجت ہو۔