۔ 23فیصدخواتین ،11.5فیصدبچےاور 7فیصدمرد شامل
پرویز احمد
سرینگر //بھارت میں مجموعی طور پر 70ملین لوگ موٹاپے کے شکار ہیں۔ ان میں 44ملین خواتین اور 26ملین مرد شامل ہیں۔ کشمیر صوبے میں بھی تیزی سے موٹاپے کی بیماری بڑھ رہی ہے۔ وادی میں 5سے 15سال تک کے بچوں میں24.7فیصد زیادہ وزن سے جوج رہے ہیں جبکہ ان میں سے 11.5فیصد بچے موٹاپے کے شکار ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ 20سے 40سال تک کی عمر کے15فیصد افراد موٹاپے کے شکار ہیں۔ ان میں خواتین میں 23.69فیصد اور خواتین اور 7.01فیصد مردوں شامل ہیں۔پوری دنیا کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں موٹاپا کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کشمیر صوبے میں مجموعی طور پر 41فیصد لوگ موٹاپے کے شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں 23فیصد کشمیر اور 18.9فیصد جموں صوبے سے تعلق رکھتے رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 15سے 15سال کے عمر کے بچوں میں 11.5فیصد لوگ موٹاپے کے شکار ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی جانب سے سکمز صورہ کے اشتراک سے کئی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں مجموعی 7فیصد موٹاپے کے شکار ہیں جبکہ خواتین میں 23فیصد شامل ہیں ۔
وادی میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں موٹاپا بڑھنے کی بڑی وجہ خوراک کی دستیابی، طرز زندگی میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ معروف انڈو کرائنولاجسٹ ڈاکٹر جاوید احمدکہتے ہیں کہ وادی میں موٹاپا بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے لوگوں کی سرگرمیاں محدود رہی ہیں اور کورونا وائرس کی عالمی وباء نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران تقریبا لوگ 3سال تک لوگوں کی نقل و حرک بہت کم ہوگئی تھی یا پھر گھروں میں محصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے لوگ کھانا تو کھا رہے تھے لیکن جسمانی سرگرمیاں کم تھی جس نے لوگوں کو ماٹاپے کا شکار بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ لوگوں کے پاس اب کھانے کے کافی متبادل آئے ہیں اور لوگ ان دن بھر مختلف چیزیں کھاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے زمانے میں لوگوں کو مشکل سے دو وقت کا کھانا ملتا تھا اور اب لوگ زیادہ کمانے لگے ہیں اور وہ بے حساب کھانے بیٹھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید نے بتایا ’’ اگر لوگوں کو ٹھیک رہنا ہے تو انہیں جنگ فوڈ اور بازار میں موجود دیگر غذائوں سے دور رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جسم بھی ایک حد تک ہی غذا کو قبول کرتا ہے لیکن جب اٹھتے بیٹھنے چائے ، کافی، کباب ، سکہ تجھ اور دیگر غذائیں کھاتے رہیں گے تو ماٹاپا ضرور بڑھے گا اور لوگ پہلے موٹاپا ، پھر شوگر، بلڈ پریشر کولسٹرال اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونگے ہی۔ ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ اس ساری بیماری سے بچنے کا بہترین طریقے مقررہ وقت پر محدود غذا کھانے کے علاوہ خود کو جسمانی طور پر سرگرم رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صبح کی ورزش اس صورتحال کو کافی حد تک بدل سکتی ہے۔