گلزار بٹ
پلوامہ //جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں زعفران کے کھیت غیر معمولی حد تک زیادہ درجہ حرارت اور طویل خشک موسم کے باعث متاثر ہونے لگے ہیں، جس سے کسانوں کو اگلے سیزن کی پیداوار کے بارے میں شدید خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔کاشتکاروں کے مطابق موسم سرما میں بارش اور برفباری کی کمی نے زعفران کی فصل کےویجیٹیٹو گروتھ مرحلے کو متاثر کیا ہے، جو زیر زمین بننے والے کورمز (Corms) کی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے اور یہی آئندہ سال کی پیداوار کا تعین کرتے ہیں۔زعفران اگانے والوں کی انجمن کے صدر عبدالمجید نے کہا کہ خشک موسم سرما کی وجہ سے فصل کی مناسب سبز بڑھوتری نہیں ہو سکی۔کشمیر میں زعفران کی کاشت زیادہ ترپانپورکے علاقے میں ہوتی ہے، جسے اکثر کشمیر کا زعفران شہر کہا جاتا ہے۔ یہ فصل موسمی حالات میں معمولی تبدیلی سے بھی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور اس کی نشوونما کے مختلف مراحل کے دوران مخصوص موسمی حالات درکار ہوتے ہیں۔
عام طور پر زعفران کی پھول آنے کی مدت اکتوبر کے وسط سے نومبر کے وسط تک جاری رہتی ہے۔ اس کے بعد فصل ویجیٹیٹو مرحلے میں داخل ہوتی ہے جس میں زمین سے گھاس جیسی لمبی پتیاں نکلتی ہیں۔ یہ پتیاں فوٹو سنتھیسز کے ذریعے توانائی پیدا کرتی ہیں اور پودے کو زیر زمین نئے کورمز بنانے میں مدد دیتی ہیں۔یہ کورمز اگلے سال کی زعفران کی فصل کے لیے نہایت اہم ہوتے ہیں کیونکہ انہی سے نئے پودے نکلتے ہیں اور آئندہ پھولوں کے موسم کی مضبوطی کا انحصار بھی انہی پر ہوتا ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اس موسم سرما کے طویل خشک دور نے ان پتوں کی نشوونما کو محدود کر دیا ہے، جس سے پودے میں غذائی اجزا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔پانپورکے ایک اور کسان نے بتایا کہ اگر اس مرحلے میں پتوں کی نشوونما درست طریقے سے نہ ہو تو کورمز کمزور رہ جاتے ہیں، جس کا براہ راست اثر اگلے سیزن کی پیداوار پر پڑتا ہے۔اس سال وادی میں موسم سرما کے دوران معمول سے کم بارش اور برفباری ہوئی ہے۔دارالحکومت سرینگرمیں فروری کے مہینے میں صرف5.8ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ریکارڈ کے مطابق سب سے خشک مہینوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1925سے دستیاب موسمی ریکارڈ کے مطابق فروری میں صفر بارش صرف ایک مرتبہ 1945میں ریکارڈ ہوئی تھی، اس طرح گزشتہ 101برسوں میں یہ دوسری بار ہے کہ اتنی کم بارش دیکھی گئی ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اس وقت جب زعفران کی فصل کو مٹی میں نمی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کھیت خشک پڑے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ ہفتوں میں خشک موسم جاری رہا تو زعفران کے کھیتوں کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے، جس سے اگلے سال کی پیداوار کی مقدار اور معیار دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔